محکمہ مال ، داخلہ ، بلدیہ اور آبپاشی کے عہدیداروں کو شامل کرنے کی تیاری
حیدرآباد۔ تالابوں ‘ سرکاری اراضیات ‘ نالوں پر کئے جانے والے قبضوں کو برخواست کرنے کے لئے ریاست تلنگانہ میں علحدہ کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کیا جاچکا ہے اور کہا جا رہاہے آئندہ ایک ماہ کے دوران محکمہ مال‘ داخلہ‘ بلدیہ اور آبپاشی کے عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ شہر حیدرآبادکے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں تالابوں اور نالوں کے علاوہ سرکاری اراضیات پر قبضوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں برخواست کروانے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تالابوں اور نالوں کے علاوہ سرکاری اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کروانے کے سلسلہ میں سخت قوانین تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور گذشتہ دنوں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے تالابوں پر کئے جانے والے قبضۂ جات پر تشویش کا اظہار کئے جانے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے اس عمل کو مزید تیز کردیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ ماہ کے اوائل میں نئی کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ تالابوں پر کئے جانے والے قبضوں اور نالوں پر کئے جانے والے قبضوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اراضیات پر کئے گئے قبضوں کو برخواست کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں تالابوں اور نالوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کی تفصیلات حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ مال سے حاصل کی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ان تفصیلات کو محکمہ آبپاشی کے حوالہ کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کن مقامات پر سب سے زیادہ تالابوں اور نالوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور سرکاری اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں ۔ عہدیداروں کے مطابق ریاست کے دیگر شہری اضلاع میں بھی حکومت کی جانب سے متعلقہ عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود تالابوں اور نالوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کی تفصیلی رپورٹ روانہ کریں ۔ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میں سیلاب کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تالابوں اور نالوں پر کئے جانے والے قبضوں کو فوری اثر کے ساتھ برخواست کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بلدی انتخابات کے دوران اس عمل کو روک دیا گیا تھا اور نتائج کے بعد جی ایچ ایم سی کی جانب سے دوبارہ کاروائی کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا جانے لگا ہے۔
