ریاستی قوانین کی آئینی حیثیت کے جواز پر سوالات ۔ حکومتوں کو چار ہفتے کے اندر جواب دینے کی ہدایت
نئی دہلی 2فروری:(ایجنسیز) سپریم کورٹ نے تبدیلی مذہب روکنے سے متعلق ریاستی قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی ایک نئی عوامی مفاد کی عرضی پر مرکزی حکومت اور 12 ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ یہ عرضی نیشنل کونسل آف چرچز ان انڈیا نے سینئر وکیل مینکش آرورا کے ذریعے دائر کی ہے، جس میں ان قوانین کے نفاذ پر فوری روک لگانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔چیف جسٹس سوری کانت اور جسٹس جویمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے ابتدائی سماعت کے دوران کہا کہ اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے تمام متعلقہ عرضیوں کو یکجا کر کے تین رکنی بنچ کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ ایک ساتھ سماعت ممکن ہو سکے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ہر نوٹس کی نقل متعلقہ ریاستوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی بھیجی جائے اور مدعا علیہان مشترکہ جواب داخل کریں۔سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے وکیل مینکش آرورا نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ ریاستی قوانین ایسے ہیں جو مبینہ طور پر تبدیلی مذہب کے معاملات میں نگرانی کرنے والے گروپوں کو شکایات درج کرانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مقدمات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوڈیشہ اور راجستھان سمیت بعض ریاستوں کے قوانین اور حالیہ ترامیم پہلے دائر عرضیوں میں شامل نہیں تھیں، اس لیے سب کو ایک ساتھ سنا جانا ضروری ہے۔مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے ان دلائل کی مخالفت کی اور کہا کہ اس نوعیت کی کئی عرضیاں پہلے ہی زیر التوا ہیں اور حکومت اپنا جواب تیار کر چکی ہے جو جلد داخل کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ قوانین سپریم کورٹ کی سابقہ آئینی تشریحات کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔عدالت نے جن ریاستوں کو نوٹس جاری کیا ہے ان میں راجستھان، اتر پردیش، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، اروناچل پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، ہریانہ، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور ہماچل پردیش شامل ہیں۔ سپریم کورٹ پہلے بھی 16 ستمبر 2025 کو اسی نوعیت کی عرضیوں پر ریاستوں سے جواب طلب کر چکی ہے اور واضح کیا تھا کہ قوانین کے نفاذ پر روک سے متعلق فیصلہ جوابات موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔