حیدرآباد۔12 اگسٹ (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں تبدیلی موسم کے سبب ہر گھر میں سردی ‘ نزلہ ‘ بخار اور اعضاء شکنی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور شہر کے بیشتر دواخانوں میں ان شکایات کے ساتھ مریض رجوع ہورہے ہیں۔ڈاکٹرس کا کہناہے کہ موسم میں ریکارڈ کی جانے والی اچانک تبدیلی کے علاوہ مچھروں کی کثرت کے سبب ڈینگو‘ ملیریااور ٹائیفائیڈ کی علامات کے ساتھ مریض دواخانوں سے رجوع ہو رہے ہیں اور ان مریضوں کا روایتی ادویات کے ساتھ علاج کیا جا رہاہے لیکن مریض کی تشخیص کے دوران کورونا وائرس کے قواعد و ضوابط کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جا رہاہے کہ اگر مریض کورونا وائرس کا شکار ہوتواسے قرنطینہ کی تجویز کی جائے ۔نزلہ‘ کھانسی ‘ بخار ‘ اعضاء شکنی اور دیگر کئی علامات کورونا وائرس کی علامات میں بھی شامل ہیں لیکن کورونا وائرس کے دوران مسلسل تیز بخار ہوتا ہے اسی لئے ہر مریض کو کورونا وائرس کا معائنہ کروانے کی تجویز نہیں دی جا رہی ہے اور اگر مسلسل دو یا تین دن بخار رہتا ہے تو ایسی صورت میں ہی کورونا وائرس کا معائنہ کروانے کے لئے کہاجا رہاہے ۔دونوں شہروںمیں ڈاکٹرس کا کہناہے کہ کورونا وائرس کے علاوہ دیگر امراض کی علامات یکساں ہونے کے سبب عوام میں پھیلنے والی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا جانا ضروری ہے کیونکہ کورونا وائرس کی علامات اور وائرل فیور میں کافی فرق ہوتا ہے لیکن علامات کے یکساں ہونے سے شہریو ںکی تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر مسلسل بخار اور کھانسی جاری رہنے کے علاوہ نزلہ اور چھینکوں کا آنا نہ رکے تو ایسی صورت میں فوری طور پر کورونا وائرس کا معائنہ کروایا جانا ضرور ی ہے اور جن لوگوں میں یہ علامات ظاہر ہوں انہیں دوسروں کی حفاظت کے لئے قرنطینہ اختیار کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے لیکن جو لوگ عام بخار اور دیگر شکایات کا شکار ہیں ان کو خوفزدہ ہونے کے بجائے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہوئے ڈاکٹرس کی تجویز کردہ ادویات کااستعمال شروع کردینا چاہئے اور گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے سے گریز کرتے ہوئے فوری علاج کو یقینی بنانا چاہئے کیونکہ ان معمولی بیماریوں سے بھی قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔