تبلیغی جماعت مرکز کھولنے کو ہائی کورٹ کی اجازت

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی : گزشتہ ایک سال سے بند تبلیغی جماعت مرکز کو دہلی ہائی کورٹ نے کھولنے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ ابھی اجازت مشروط اور محدود ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے رمضان کے دوران پچاس لوگ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مرکز میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ دہلی وقف بورڈ کی جانب سے پیش ہوئے وکیلوں نے عدالت سے اس بات کی اجازت مانگی کہ مرکز کی عمارت کی ہر منزل پر پچاس لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے لیکن عدالت نے دہلی میں کورونا کے بڑھتے معاملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کورونا وائرس کو لے کر گائیڈ لائنس کی پابندی کی ذمہ داری تھانہ حضرت نظام الدین کے ایس ایچ او کو دی ہے۔ غور طلب ہے شب برات پر بھی ہائی کورٹ نے مرکز میں پچاس لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی لیکن وہ اجازت صرف ایک دن کے لیے تھی اور اب اجازت رمضان کے مہینے کے لیے ہے۔ موجودہ وقت میں صرف پانچ لوگوں کو مرکز کے اندر نماز ادا کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے جبکہ مرکز کے دروازے پر پولیس کے ذریعہ تالا بھی لگایا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مارچ کے آخر میں مبینہ طور پر مرکز سے کورونا کے بہت سارے معاملات سامنے آئے تھے، جس کے بعد مرکز کو مہربند کردیا گیا تھا اور پورے نظام الدین علاقہ میں جانچ اور چیکنگ کی گئی تھی اور علاقہ کو سینیٹائز کرایا گیا تھا۔ یہ معاملہ اس عدالت میں چل ہی رہا تھا کہ عدالت نے مقدمے کو غیر مشروط کھولنے کی اجازت دے دی تھی لیکن پولیس نے فیصلے کو نظرثانی کے تحت چلینج کیا اور اس معاملے میں حکم التواء حاصل کرلیا۔