تبلیغی جماعت نشانہ ، منادر میں درشنوں کا ہجوم نظر انداز

   

متعدد منادر میں ریکارڈ تعداد ، ذرائع ابلاغ سے مسلم طبقہ نشانہ ، فرقہ وارانہ منافرت میں اضافہ
حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) کورونا وائر س کے معاملہ میں تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانے والوں کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ مل کی مندار میں 9تا 19 مارچ کے دوران کتنے بھکت آئے اور پوجا کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کے مرکز حضرت نظام الدین ؒ میں اس مدت کے دوران 4000 افراد کی آمد و رفت رہی اور اس قدر جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کورونا وائر س کے لئے تبلیغی جماعت کے مبلغین کو نشانہ بنایاجانے لگا لیکن کسی بھی گوشہ سے ملک کی مختلف منادر کا دورہ کرنے والوں کی نہ نشاندہی کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان میں پائے جانے والے کورونا وائر س کے مریضوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے۔ 9مارچ سے 19مارچ کے درمیان تھرونتا پورم ٓاٹوکل پونگل میں 1لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ اس مدت کے دوران تروپتی میں 40 ہزار افراد نے درشن کئے اور تروپتی میں درشن کے دورا ن کوئی سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھا گیا تھا ۔ احمدآباد میں واقع ISKCON مندر میں 9تا19 مارچ کے دوران 12000معتقدین نے درشن کئے اور کودھالادھم مندر میں7 ہزار کے علاوہ پاؤ گڑھی میں 5000اور سومناتھ مندر میں 5000 بھکتوں نے درشن کئے ہیں دوارکا مندر میں اس مدت کے دوران 3000 اور بھدراکالی مندر میں 2000 افرد نے درشن کئے لیکن ملک کے سرکردہ ٹیلی ویژن چیانلس ہندوستان بھر میںکورونا وائرس کو پھیلانے کے لئے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار قرار دینے کی بھر پور کوشش کرتے رہے لیکن کسی بھی چیانل یا ذرائع ابلاغ ادارہ کی جانب سے ان منادر میں درشن کیلئے پہنچنے والوں کی تعداد پر کوئی بحث یا مباحث نہیں ہوئے اور نہ ہی اس تعداد کی تفصیلات کے ساتھ کوئی خصوصی رپورٹ شائع کی گئی ۔ ٹیلی ویژن چیانلس اور نامور صحافیوں کی جانب سے جس منافقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس کے سبب ان کے خلاف سوشیل میڈیاپر عوام نے زبردست ردعمل ظاہر کیااور ان کی منافقت کو منظر عام پر لانے کے لئے سوشیل میڈیا کا سہارا لیا گیا اور اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی لیکن منافق ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے ملک بھر کے عوام میں جو منافرت پھیلائی گئی ہے اس منافرت کے خاتمہ کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں کیونکہ تبلیغی جماعت کے نام پر ان صحافیوں اور ذرائع ابلاغ ادار وںکی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں مسلم ٹھیلہ بنڈی رانوں ‘ تاجرین اور مسافرین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات منظر عام پر آئے اور ان واقعات پر قابو پانے کے لئے سرکاری سطح پر کوششوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ شمالی ہند میں میڈیا کے اس پروپرگنڈہ کے جو منفی اثرات ہوئے ہیں اس کے سبب دیہاتوں میں مسلمانو ںکی زندگی اجیرن کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں کہ لوگوں کو یقین نہیں ہورہا ہے کہ ان کے ساتھ ایک بیماری کے نام پر ایسا سلوک کیا جاسکتا ہے۔