حیدرآباد ۔ /22 اپریل (سیاست نیوز) تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 54 افراد بشمول خواتین اور غیر مسلم کو کورنٹائن کی مدت ختم ہونے کے بعد آج انہیں حیدرآباد کے مرکز سے گھر جانے کی اجازت دیدی گئی تھی ۔ دہلی کے نظام الدین مرکز میں اجتماع میں شرکت کے بعد شہر واپس لوٹنے والے تبلیغ جماعت کے ارکان کو بڑی مسجد ملے پلی میں /3 اپریل کو کورنٹائن میں بھیج دیا گیا تھا اور انہیں تقریباً 3 ہفتوں کی مدت کے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی ۔ دہلی مرکز سے واپس لوٹنے والے تمام تبلیغی جماعت کے ارکان کی پولیس اور جی ایچ ایم سی کی ٹیموں نے نشاندہی کرتے ہوئے ان کے معائنے کئے اور پازیٹیو پائے جانے والے افراد کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا تھا جبکہ نیگیٹیو پائے جانے والے افراد کو لازمی طور پر حیدرآباد مرکز میں کورنٹائن رہنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے ۔ حالانکہ کورنٹائن کی مدت 14 دن کی ہوتی ہے لیکن تبلیغی جماعت کے ارکان اور خواتین کو 3 ہفتوں تک کورنٹائن میں رکھا گیا اور طبی معائنے نیگیٹیو ثابت ہوئے ۔ چند دن قبل پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں اور جی ایچ ایم سی حکام کی جانب سے حیدرآباد مرکز کو بند کردیا گیا تھا اور ملے پلی علاقہ کا مکمل طور پر محاصرہ کرلیا گیا تھا ۔ اس علاقہ کو کورونا وائرس سے متاثر قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی ۔ تبلیغی جماعت کے ارکان کے ساتھ ٹرین میں سفر کرنے والے دو غیرمسلموں جن کا تعلق کاماریڈی سے ہے کو بھی حیدرآباد کے مرکز میں کورنٹائن رکھا گیا تھا ۔ سابق میں صدر تبلیغی جماعت کے علاوہ دیگر ارکان کو ایرا گڈہ کے چیسٹ ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا لیکن ان کے معائنے بھی نیگیٹیو ثابت ہوئے ۔ اولڈ ملک پیٹ چادر گھاٹ میں واقع ادارہ ملیہ سے بھی 26 تبلیغی جماعت کے ارکان کو گھر جانے کی اجازت دیدی گئی ۔ جی ایچ ایم سی اور محکمہ صحت کے حکام نے دہلی مرکز کو جانے پر ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں لازمی طور پر ادارہ ملیہ مسجد میں کورنٹائن رکھا تھا اور مدت ختم ہونے پر انہیں گھر جانے کی اجازت دیدی گئی ۔
