۔ 10 ہزار روپئے کے شخصی مچلکہ پر رہائی ، منگل کو وطن واپسی کی راہ ہموار
نئی دہلی۔ پولیس نے تبلیغی جماعت کے ان ارکان کو صرف جرمانہ دے کر چھوڑنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان غیر ملکی شہریوں کا پہلا گروپ اب منگل کو اپنے وطن واپس لوٹ سکتا ہے۔تبلیغی جماعت کے تھائی لینڈ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 75 ارکان کو دہلی کی عدالت سے ضمانت کے بعد10 ہزار روپئے شخصی مچلکہ پر رہائی مل گئی ہے ۔ اس طرح ان کی اپنے متعلقہ ملکوں کو واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کیلئے پورے ملک میں لاک ڈاون نافذ کیا گیا تھا۔ اسی دوران دہلی کے حضرت نظام الدینؒ علاقے میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کا اہتمام کرنے کا معاملہ بھی سرخیوں میں رہا۔ حالانکہ تبلیغی جماعت نے یہ پروگرام لاک ڈاون سے پہلے ہی کیا تھا۔ تاہم لاک ڈاون کی وجہ سے سینکڑوں لوگ ایک ہی عمارت کے اندر پھنس گئے تھے۔ اس میں کئی غیرملکی شہری بھی تھے۔ اس حادثہ کو لیکر پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس دوران تبلیغی جماعت کے کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا تھا، اور ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں کئی بیرونی شہری شامل ہیں۔ دہلی کی ایک عدالت نے انہیں مختلف دنوں میں رہا کردیا ہے۔ ان پر 7 تا 10 ہزار روپئے تک کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک ملائیشیا کے 121 اور سعودی عرب کے 11 شہریوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔ ان سب نے عدالت میں ویزا اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی بات تسلیم کی ۔ ان پر 7 تا 10 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ۔ دہلی پولیس نے 956 غیرملکی شہریوں کو گرفتارکیا تھا۔ پولیس نے انہیں صرف جرمانہ دے کر چھوڑنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ غیرملکی شہریوں کا پہلا گروپ اب آئندہ منگل کو اپنے وطن لوٹ سکتا ہے۔تاحال 33 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 445 تبلیغی بیرونی ارکان کو عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کی جاچکی ہے۔