تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ، منافع بخش تجارت بھی خسارہ کا شکار

   

کرایہ داروں کی عدم دستیابی پر برائے فروخت کے بورڈس ، حالات بحال ہونے پر جائیداد کی طلب میں اضافہ ممکن
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد میں تجارتی جائیدادوں کی قیمتوں میں گراوٹ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بند ہونے لگی ہے اور کئی تجارتی اداروں کی جانب سے سرگرمیوں کو بند کیا جانے لگا ہے جو کہ شہر حیدرآباد میں معاشی سرگرمیوں کے کمزور ہونے کی علامت ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد اب جبکہ بیشتر سرگرمیوں کا آغاز ہونے لگا ہے لیکن اس کے باوجود بھی شہر حیدرآباد میں تجارتی سرگرمیوں میں تیزی کے کوئی آثار نہیں دیکھے جا رہے ہیں جو کہ تجارتی برادری کے لئے مشکل کا سبب بنتا جا رہاہے۔حکومت کی جانب سے شہر کے تجارتی سرگرمیو ںکے فروغ کے سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں لیکن کہاجارہا ہے کہ ریاست میں معیشت کے استحکام کے لئے متعدد اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے بیشتر تجارتی علاقوں میں ملگیوں کو خالی کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جار ہاہے اور کئی ایک ملگیوں کے خالی ہونے کے سبب ان جائیدادوں کے مالکین میں تشویش پائی جانے لگی ہے۔ شہری علاقو ںمیں تجارتی بازاروں میں جائیداد کی خریدی انتہائی منافع بخش ثابت ہوا کرتی تھی لیکن موجودہ حالات میں تجارتی بازاروں میں پائی جانے والی مندی کے سبب ان جائیدادوں پر بھی تیزی سے برائے فروخت کے بورڈ آویزاںکئے جانے لگے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وباء کے سبب ہوئے لاک ڈاؤن کے سبب ہی کئی دکانات پر کرایہ کے لئے دستیاب کے بورڈ آویزاں کئے جا چکے ہیں لیکن اب جبکہ کرایہ دار بھی نہیں مل رہے ہیں تو جائیداد مالکین میں ان جائیدادوں کو فروخت کرنے کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر جائیدادوں کو مزید روکے رکھا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان جائیدادوں کی قیمتو ںمیں بھی رہائشی جائیدادوں کی طرح گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔ شہر حیدرآباد کے کئی بازاروں میں جہاں کرایہ کے لئے دستیاب ہے کہ بورڈ دیکھے جا رہے تھے اب برائے فروخت کے بورڈ آویزاں کئے جانے لگے ہیں جو کہ تجارتی سرگرمیوں کی صورتحال کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر کسی کے پاس فاضل دولت موجود ہے تو یہ دور جائیدادوں کی خریدی کا ہے اور جائیدادوں کی خریداری انہیں مستقبل میں منافع بخش سودا ثابت ہوگی کیونکہ حالات معمول پر آنے کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے اور جائیدادیں قیمتی ہوسکتی ہیں۔