احتیاطی تدابیر اور احکامات کی خلاف ورزی کا بہانہ ، معمول کی وصولی سے تاجر فکر مند
حیدرآباد۔27مئی(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں سماجی فاصلہ کے اصولوں کے علاوہ طاق و جفت کے اعتبار سے تجارتی اداروں کی کشادگی جی ایچ ایم سی عہدیداروں اور عملہ کے علاوہ عمل آوری کو یقینی بنانے والے دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے لئے آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے تجارتی علاقوں میں کی جانے والی من مانی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کے نام پر کئے جانے والے اقدامات پر عدم عمل آوری کو نظر انداز کرنے کیلئے معمول کی وصولی کا آغاز کیا جاچکا ہے اور اب تجارتی اداروں کو من مانی طور پر کھولا جانے لگا ہے۔ علاوہ ازیں 90 فیصد تجارتی مراکز پر سماجی فاصلہ کے علاوہ ماسک کے اصولوں پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے جو کہ شہر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بننے کا خدشہ ہے۔ شہر حیدرآباد کے سرکردہ تجارتی بازاروں سے وصولی کے علاوہ ان بازاروں میں من مانی طاق و جفت کو نظر انداز کرتے ہوئے دکانات کھولے جانے کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ مقامی بلدی عہدیداروں اور پولیس عہدیدارو ںکی جانب سے ان امور کو نظر انداز کرنے کیا جا رہاہے اور بازاروں میں موجود تاجرین کی جانب سے متعلقہ عہدیداروں کو بھاری رقومات ادا کی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ اگر ان عہدیداروں کی جانب سے بازاروں کی کشادگی کو نظر انداز کیاجاتا ہے اور جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ان رہنمایانہ خطوط کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں معمول جاری رکھا جا ئے گا
جبکہ جو لوگ اس طرح کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں وہ عوامی زندگیوں اور صحت عامہ سے کھلواڑ کے مرتکب بن رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں کے احیاء اور بازاروں میں سرگرمیوں کی بحالی کے ذریعہ معاشی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات کے سلسلہ میں اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے کہ شہر اور ریاست کے اضلاع میں کسی بھی طرح سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو اس کے لئے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کی جائے لیکن شہر حیدرآباد میں ان رہنمایانہ خطوط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور اس میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ پولیس کا عملہ تاجرین کی اعانت کر رہا ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں طاق و جفت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روزانہ دکانات کھولی جانے لگی ہیں اور اس کے علاوہ سماجی فاصلہ اور دیگر امور کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جا رہاہے ۔