کانگریس ترجمان نرنجن کا سوال، چیف منسٹر اور وزراء ماسک سے مستثنیٰ نہیں
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان جی نرنجن نے ریاست میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے ذریعہ تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم عبادت گاہوں کو بند رکھنے کے فیصلہ پر نکتہ چینی کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرنجن نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے ہر طرح کی تجارتی سرگرمیوں کو بحال کردیا ہے۔ بازاروں میں عوام کا ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔ آر ٹی سی بسیں، کار اور آٹو سڑک پر آچکے ہیں لیکن عوام کو عبادت گاہ جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ جب بازاروں میں عوام جمع ہوسکتے ہیں تو عبادت گاہ جانے میں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ گزشتہ 57 دنوں سے عوام اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت گاہ جانے سے قاصر ہیں۔ مساجد، منادر، چرچس اور گردواروں کو بند کردیا گیا ہے۔ نرنجن نے سوال کیاکہ کیا بازاروں سے زیادہ عبادت گاہیں کورونا وائرس کے لئے زیادہ خطرناک ہیں؟ اُنھوں نے کہاکہ سماجی فاصلہ کی برقراری کی شرط لاک ڈاؤن کی نرمی میں نظرانداز کردی گئی ہے جبکہ کورونا کے پھیلاؤ کے لئے بازار زیادہ پُرخطر ہیں۔ افسوس کہ حکومت نے تمام تجارتی سرگرمیوں کو بحال کردیا لیکن عبادتوں کی اجازت سے انکار کیا جارہا ہے۔ نرنجن نے کہاکہ ہندوستان روایتی طور پر روحانی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور عبادت گاہوں کو بند رکھنا عوام کے دستوری حق کی خلاف ورزی ہے۔ دستور نے ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اور اُس کی عبادت کرنے کا حق دیا ہے۔ گزشتہ 57 دن سے ملک کے عوام اِس حق سے محروم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تہواروں کے عین موقع پر عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے۔ مسلمانوں کے لئے رمضان ایک مقدس مہینہ ہے لیکن گزشتہ 25 دن سے مسلمان افطار اور تراویح کے لئے مساجد میں داخلہ سے محروم کردیئے گئے۔ اب جبکہ عیدالفطر قریب ہے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کے لئے مساجد اور عیدگاہ جانے کی اجازت دی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ آئندہ جون اور جولائی میں کئی تہوار آرہے ہیں اور حکومت کو ابھی سے مندر کمیٹیوں کو تہواروں کے انعقاد کی اجازت دینی چاہئے۔ نرنجن نے سوال کیاکہ کورونا سے بچاؤ کے لئے عام آدمی پر ماسک کی شرط عائد کی گئی لیکن کیا چیف منسٹر اور وزراء اِس شرط سے مستثنیٰ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جائزہ اجلاسوں میں چیف منسٹر اور وزراء ماسک کے بغیر شریک ہوئے اور اُنھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ کیا ماسک صرف عام آدمی کے لئے لازمی ہے اور چیف منسٹر اور وزراء کو اِس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی پر چیف منسٹر اور وزراء کے خلاف جرمانہ عائد کیا جائے۔