حیدرآباد۔ 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس اے ونود کمار نے تحریک مسلم شبان کو 19 اکٹوبر کے جلسہ عام کے بجائے 20 اکٹوبر کو خواجہ منشن فنکشن ہال میں مندوبین کے اجلاس کی مشروط اجازت دی ہے۔ عدالت نے شرط رکھی ہے کہ مقررین اشتعال انگیز تقاریر سے باز رہیں ۔ مقررین کی تعداد سات سے زائد نہ ہو ۔ اشتعال انگیز تقاریر کی صورت میں کارروائی کی جائے گی ۔پولیس کی جانب سے صدائے امت کانفرنس کی اجازت سے انکار کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس اے ونود کمار نے لنچ موشن کے طور پر تحریک مسلم شبان کی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کیا۔ تحریک کی جانب سے سینئر کونسل بی وی این آچاریہ نے پولیس کے فیصلے پر اعتراض کیا اور کہا کہ مسلم تنظیم کو جلسہ عام کے انعقاد سے روکا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے جلسہ کی اجازت نہ دینے کے لیے پولیس کے دلائل کو غیر معقول قراردیا۔ ایڈوکیٹ جنرل اور پولیس کے وکلاء نے کانفرنس کے انعقاد کو امن و ضبط کی صورتحال کے لیے نامناسب قراردیتے ہوئے پولیس کے فیصلے کی تائید کی۔ فریقین کی سماعت کے بعد جسٹس ونود کمار نے 19 اکٹوبر کے بجائے 20 اکٹوبر کو 2 بجے دن سے خواجہ منشن مانصاحب ٹینک میں مندوبین کے اجلاس اور جلسہ عام کی اجازت دی۔ یہ اجلاس صرف تین گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ شکیل احمد اور مجاہد الرحمن ایڈوکیٹس نے بی وی این آچاریہ کی اعانت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کانفرنس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور مہمانوں اور مندوبین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لہٰذا لمحہ آخر میں اجازت نہ دینے کا فیصلہ مناسب نہیں۔