ٹی آر ایس حکومت سے محمد علی شبیر کا مطالبہ، مسلم تحفظات پر عمل آوری کا بہترین موقع
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے خواہش کی کہ ملک میں تعلیم اور روزگار میں 50 فیصد تحفظات کی شرط برخواست کرنے کیلئے سپریم کورٹ کو مکتوب روانہ کریں ۔ فیڈریشن آف تلنگانہ اینڈ آندھراپردیش میناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت کو 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری میں ناکامی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد کے سی آر نے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا ۔ تین سال گزرنے کے باوجود کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ کانگریس کے دباؤ کے تحت اسمبلی میں بل منظور کیا گیا جو مرکز کی منظوری کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اندرا سہانی کیس میں 50 فیصد تحفظات کی شرط رکھی ہے اور تلنگانہ میں مجموعی تحفظات 62 فیصد ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو تحفظات بل کے بارے میں تین مرتبہ مکتوب روانہ کیا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں 50 فیصد تحفظات کے بارے میں ریاستوں سے رائے حاصل کی ہے۔ سپریم کورٹ نے موجودہ 50 فیصد تحفظات کی شرط کو منسوخ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو تحفظات میں اضافہ کی تائید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو مکتوب روانہ کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے اعتراف کیا تھا کہ آبادی کا 90 فیصد پسماندہ طبقات ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ ٹاملناڈو اور جھارکھنڈ میں تحفظات 50 فیصد سے زائد ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی روشنی میں تلنگانہ حکومت کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی مساعی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو کونسل انتخابات میں اقلیتوں سے ووٹ مانگنے کا حق نہیں ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں اقلیتی تعلیمی اداروں کی تعداد گھٹ چکی ہے ۔ انجنیئرنگ ، ایم ڈی اے ، ایم سی اے اور فارمیسی کالجس بند ہوچکے ہیں۔ انہوں نے گریجویٹ رائے دہندوں سے کانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ اجلاس میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی ، پارٹی امیدوار راملو نائک، فیڈریشن کے صدرنشین ظفر جاوید ، شیخ عبداللہ سہیل ، عثمان الحاجری ، عامر جاوید اور دوسروں نے شرکت کی۔