دھرنا چوک پر کانگریس کا ایک روزہ احتجاج، سینکڑوں کارکنوں کی شرکت ، تحفظات برقرار رکھنے سینئر قائدین کا مطالبہ
حیدرآباد ۔17۔ فروری (سیاست نیوز) ایس سی ، ایس ٹی تحفظات کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام آج دھرنا چوک پر ایک روزہ احتجاج منظم کیا گیا۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی آر سی کنتیا ، صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی ، سابق اپوزیشن لیڈرس کے جانا ریڈی ، محمد علی شبیر ، سابق رکن پارلیمنٹ کے وشویشور ریڈی ، اے آئی سی سی کے سکریٹریز سمپت کمار، ومشی چندر ریڈی ، مدھو یاشکی گوڑ ، چنا ریڈی ، سابق صدر پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا ، سابق رکن راجیہ سبھا ہنمنت راؤ ، رکن اسمبلی جگا ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، سابق وزیر جی گیتا ریڈی ، ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی ، وینکٹ ریڈی ، رکن اسمبلی سریدھر بابو، اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر شراون ، اے آئی سی سی ریسرچ سل تلنگانہ کے صدرنشین عامر جاوید ، سابق ایم ایل سی راملو نائک اور دیگر قائدین نے شرکت کی ۔ پارٹی کارکنوں کی کثیر تعداد نے ایک روزہ دھرنا پروگرام میں حصہ لیا۔ صدرپردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایس سی ، ایس ٹی تحفظات کو دستور کا بنیادی حق تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے دلتوں ، پسماندہ طبقات اور اقلیتی طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات میں بھروسہ پیدا کرنے کیلئے احتجاجی دھرنا منظم کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تمام طبقات کے ساتھ انصاف پر یقین رکھتی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاست میں انتخابات نہیں ہے اور نہ سیاسی فائدہ کیلئے یہ دھرنا منظم کیا گیا۔ کانگریس پارٹی تحفظات کی برقراری کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلت قائد دامودر راج نرسمہا کو کانگریس نے ڈپٹی چیف منسٹر اور دلت طبقہ کے دامودرم سنجیویا کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس میں دلتوں کے لئے اعلیٰ عہدوں کے مواقع نہیں ہیں۔ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی کابینہ میں مادیگا طبقہ کے ایک بھی نمائندہ کو شامل نہیں کیا گیا ۔ مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پارلیمنٹ میں ایک دن بھی ٹی آر ایس ارکان نے اس مسئلہ کو نہیں چھیڑا۔ ٹی آر ایس سے وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مسلمان اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے منتظر ہیں۔ کانگریس نے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں تحفظات فراہم کئے تھے۔ تحفظات کے بارے میں سپریم کورٹ کی رائے سے کانگریس پارٹی اتفاق نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو ریویو پیٹیشن دائر کرنی چاہئے۔ سکریٹری اے آئی سی سی سمپت کمار نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے ۔ دستور میں دیئے گئے تحفظات پر کانگریس پارٹی نے عمل آوری کی جبکہ بی جے پی اور ٹی آر ایس تحفظات کے خلاف ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ملک بھر میں کمزور طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ سابق صدر پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بی جے پی اور ٹی آر ایس کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 1902 ء سے ملک میں ریزرویشن سسٹم پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کمزور طبقات کی بھلائی کے فنڈس کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ سابق رکن پارلیمنٹ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ ملک میں گزشتہ 70 برسوں سے تحفظات میں عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے 4000 سرکاری اسکولوں کو بند کردیا۔ دلتوں کو تین ایکر اراضی کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ سابق وزیر ڈاکٹر چنا ریڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے کمزور طبقات سے ناانصافی ہوگی۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی مخالفت کی اور کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے جو حقوق فراہم کئے ہیں، ان کے تحفظ کے لئے کانگریس جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت انشورنس اور ریلوے جیسے شعبہ جات کو خانگی شعبہ کے حوالے کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تحفظات کے مسئلہ پر سنجیدگی نہیں ہے ۔ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے تحفظات کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو مخالف مسلم اور مخالف گریجن حکومت قرار دیا اور کہا کہ تحفظات میں اضافہ کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور کے سی آر میں خفیہ سمجھوتا ہے۔ کے سی آر نے مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی۔ ریونت ریڈی نے مجلس کے صدر اسد اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ کانگریس کی طاقت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ رہیں۔ آپ کے والد نے ہمیشہ کانگریس کی تائید کی تھی، آج آپ جو کچھ بھی ہیں وہ کانگریس پارٹی کے سبب ہے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، رکن اسمبلی سریدھر بابو اور دوسروں نے مخاطب کیا۔