تحفظات کے مسئلہ پر مسلمانوں اور درج فہرست قبائل سے دھوکہ

   

ششی دھر ریڈی کا الزام، حضورنگر میں ٹی آر ایس کو سبق سکھانے کا عوام کو موقع
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں تحفظات کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ قدم نہیں اٹھائے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ششی دھر ریڈی نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر حکومت کی دھوکہ دہی کا جواب اپنے ووٹ کے ذریعہ دیں اور کانگریس کے امیدوار پدماوتی ریڈی کو کامیاب بناتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو سبق سکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے حکومت کو سبق سکھانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ 2014 اور پھر 2018ء میں کے سی آر نے عوام کے ساتھ جو وعدے کیے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ عوام کو دھوکہ دہی کے باوجود انہوں نے دوسری مرتبہ اقتدار عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ محض ووٹ حاصل کرنے کی ایک چال تھی۔ کانگریس نے قانونی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے مشکل سے مسلمانوں کو تعلیم و روزگار میں چار فیصد تحفظات فراہم کیے تھے جس کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کے باوجود کے سی آر تحفظات کے مسئلہ پر خاموش ہیں اور مرکز کی مخالفت کا بہانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب مرکزی حکومت تحفظات کے خلاف ہے تو پھر ٹی آر ایس مرکز کے ہر فیصلے کی تائید کیوں کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تھا کہ کے سی آر تحفظات کو یقینی بنانے کے لیے مرکز سے جدوجہد کرتے۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ تحفظات فراہم کرنے کے لیے دستوری پابندیوں کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ کیا کے سی آر دستوری پابندیوں سے اس وقت واقف نہیں تھے جب انہوں نے 12 فیصد کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا کوئی بھی قدم سیاسی مقصد براری سے خالی نہیں ہوتا۔ سماج کے تمام طبقات کو کچھ نہ کچھ وعدوں کے ذریعہ تائید حاصل کرلی گئی۔ اب جبکہ دوسری مرتبہ اقتدار حاصل ہوچکا ہے کے سی آر کو عوام اور ان سے کیے گئے وعدوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ششی دھر ریڈی نے حضور نگر میں پولیس اور سرکاری مشنری کے بے جا استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے۔ گزشتہ تین اسمبلی انتخابات میں حضورنگر کے رائے دہندوں نے اتم کمار ریڈی کو کامیاب کیا تھا لہٰذا ضمنی چنائو میں پدماوتی ریڈی کی کامیابی یقینی ہے۔