تلنگانہ میں وقف اراضیات کی تباہی کے سیاسی قائدین ذمہ دار، ممتاز قانون داں محمود پراچہ کا خطاب
حیدرآباد۔18 جون (سیاست نیوز) وقف اراضیات صیانت کے لئے مشن وقف املاک ومشن اورمشن تحفظ ائین کے ذمہ داران اور کارکنان تہاڑ جیل سے چنچلگوڑہ جیل تک جیلوں کو بھرنے کے لئے تیار ہیں16جولائی تک کی مہلت دی جارہی ہے ‘ اس کے بعد جو بھی نتائج پیش ائیں گے اس کے لئے حکومت تلنگانہ ‘ وقف بورڈ اور وقف اراضیات پر قابض سیاسی قائدین ذمہ دار ہوں گے ۔ سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل محمود پراچہ نے میڈیا پلس میںمنعقدہ ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیاہے ۔ محمود پراچہ نے کہاکہ سارے ملک کے مسلمانوں کی نظریں حیدرآباد پر ہیں اور یہاں سے جو تحریک شروع ہوتی ہے وہ سارے ملک میںانقلاب برپا کرتی ہے مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ اللہ کی زمین کی تباہی کے ذمہ دار کوئی اور نہیںبلکہ سیاسی قائدین ہی ہیں ۔ مسلم قیادت اور آبادی کے حساب سے حیدرآباد ایک مضبوط شہر ہے مگر اوقافی جائیدادوں کی سب سے زیادہ تباہی حیدرآباد میں ہی ہوئی ہے ۔ کسی کا نام لئے بغیر محمود پراچہ نے کہاکہ آج وقف اراضیات کی صیانت کی گونج بیرونی ممالک سے بھی سنائی دے رہی ہے ‘وہاں پر بھی مسلم قیادت سے سوال پوچھے جارہے ہیں کہ وقف جائیدادوں کی صیانت کے لئے ’’آپ کی جماعت ‘‘ نے کیاکام کیاہے جس پر جواب دیا جاتا ہے کہ ماہرین قانون کی ایک ٹیم تیار کی جارہی ہے اور بہت جلد اس کام کو انجام دیاجائے گا۔ پراچہ نے اس جواب پر کہاکہ وہ معلنہ لیگل ٹیم کاایک کارکن کی حیثیت سے حصہ بننے کے لئے تیار ہیں اگر چیکہ ماہرین قانون کی ٹیم کی تشکیل سنجیدگی سے عمل میںلائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خالی اعلانات سے کچھ حاصل نہیںہونے والا ہے ‘ اوقافی جائیدادوں کی بازیابی اس وقت ممکن ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت کے کارپوریٹرس کے زیر قبضہ وقف اراضیات کو بورڈ کے حوالے جب کیاجاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ وقف بورڈ میں اسی جماعت کی ممبرس کی اکثریت ہے ’ خود جماعت کے قائد بورڈ کے ایک رکن پچھلے بیس سالوں سے ہیں اس کے باوجود وقف املاک کی بڑے پیمانے پر تباہی ایک سوالیہ نشان ہے ۔ محمود پراچہ نے کہاکہ وقف اراضیات کی تباہی‘ حیدرآباد کی مسلم آبادی کی اکثریت سود کی لعنت کاشکار‘14سو سے زائد اُردو اسکول بند کرائے جانا اپنے آپ میں ایک تعجب خیز بات ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد وہ شہر ہے جہاں سے حاجیوں کے لئے کسی زمانے میں امداد جایا کرتی تھی مگر مکہ مسجد کے اطراف واکناف کے حالات دیکھ کر شدیدتکلیف ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بے شمار اوقافی جائیدایں جس میںمعمولی کرایوں پر لوگ ہیں‘ لیز ‘ سب لیز کے حوالے سے بڑے پیمانے پر دھاندلیاں انجام دی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر سنجیدگی کے ساتھ وقف جائیدادوں کی صیانت کے لئے کام کیاجاتا ہے تو یقین جانیں مسلم خاندان کروڑ پتی ہوجائیں گے۔ پراچہ نے کہاکہ حیدرآباد میں وقف جائیدادوں کی تباہی کا ایک واحد مسئلہ نہیںہے ‘ یہاں پر جو لوگ وقف جائیدادوں کی حفاظت کے لئے کام کرتے ہیںان کے خلاف مقدمات درج ہوتے ہیں‘ ان کی روڈی شیٹ کھولی جاتی ہے ‘ انہیںہراساں کیاجاتا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ حیدرآباد میں کبھی کسی نے وقف جائیدادوں کے لئے اپنی جان جوکھم میںڈالنے والے کسی مجاہد کو تہنیت پیش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ عوام کی ذمہ داری ہے جو وقف املاک کی مالک ہے کہ وہ اپنی املاک کی حفاظت کرنے والوں کی ستائش کریں اور انہیںتہنیت پیش کریں تاکہ وقف جائیدادوں کی حفاظت کے لئے سرگرم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میںگشت لگائیں اور وقف اراضیات کی نشاندہی کریں اور انہیں ریکارڈ پر لائیں۔ لاکھوں ایکڑ وقف اراضی آج بھی موجودہے ۔ اس کی حفاظت او ربازیابی کے لئے سرگرم عمل ہوجائیں ۔ یقینا اس سے دنیا اورآخرت دونوں سدھر جائیں گے۔ وقف بورڈ کے ریکارڈروم کو مقفل رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محمود پراچہ نے کہاکہ اس طرح ریکارڈ روم کو مقفل رکھنا غیر قانونی ہے اور چیف ایکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ عوام کی جانب سے مانگی گئی جانکاری پر موثر انداز میںجواب دے اور ریکارڈ روم کا قفل کھولائے ۔محمودپراچہ نے متنبہ کیا کہ 16جولائی تک کا وقت حکومت تلنگانہ اورتلنگانہ وقف بورڈ کے پاس ہے اوروہ اس کو دھمکی نہ سمجھیںبلکہ خامیو ں اورکوتاہیو ںکو ختم کرکے اقدامات شروع کردیں ورنہ پہلا مارچ 16جولائی کوریاست میںاوقافی جائیدادو ں کی حفاظت کے لئے نکالا جائے گا او راس کے بعد جب تک وقف جائیدادوں کی صیانت او ر حفاظت یقینی نہیںہوجاتی تب تک پوری ریاست میںبڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے کئے جائیںگے۔ انہوں نے کہاکہ کمشنریٹ قائم کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر کمشنریٹ کے قیام کے لئے سنجیدہ لوگ کم ازکم ایس ڈی ایم درجہ کے ایک افسر کو تقرربورڈ میںآج تک مقرر کرنے میں کامیاب نہیںہوئے ہیں۔پراچہ نے کہاکہ دھرنی پورٹل کے تحت خدمات انجام دینے والے افسران اوراہلکاروں کو بھی میںآگاہ کرتاہوں کہ وہ سیاسی قائدین کے دبائو میںآکر کچھ بھی ایسا کام کرنے سے گریز کریں جو وقف ایکٹ4اور 5کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔انہو ںنے کہاکہ اب تک بورڈ میں جن عہدیداروں نے ایمانداری اوردیانت داری کے ساتھ کام کیا اورریٹائرڈ ہوگئے ہیں اور آج بھی جو خدمات انجام دے رہے ہیں ان سے بہت ساری جانکاریاں ہمیںموصول ہورہی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ سنٹرل وقف ایکٹ 2013میں تشکیل پایا تھا جس میں کافی اہم رول میںنے بھی ادا کیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ مولانا ولی الرحمانی مرحوم نے مجھے یہ ذمہ داری تفویض کی تھی اور سنٹرل وقف ایکٹ کا مسودہ میری کاوشوں کانتیجہ ہے ۔محمود پراچہ نے مانگ کی جو وقف جائیدادوں پر ہورڈنگ لگے ہوئے اس سے بورڈ کوہونے والی آمدنی عوام کے سامنے لائی جائے اور پوری ایمانداری کے ساتھ اس آمدنی کو منشائے وقف کے تحت استعمال کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت تلنگانہ اور وقف بورڈ ان مطالبات پر 16جولائی سے قبل کام کرنے لگتا ہے تو اچھا ہوگا ورنہ پورے تلنگانہ میںایک بڑے پیمانے پر وقف جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ایک منظم تحریک شروع کی جائے گی۔