تحقیقی مقالے لکھوانے کو جرم قرار دیئے جانے کامطالبہ

   

ریاض۔ سعودی مجلس شوری نے جامعات میں تحقیقی مقالے دوسروں سے لکھوانے کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی مجلس شوری نے کہا ہے کہ جامعات کے طلبہ کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے یا تحقیقی مضامین لکھنے پر پابندی عائد کی جائے۔ افراد اور اداروں کو اس سے روکنے کے لیے اس عمل کو جرم قرار دیا جائے۔مقامی اخبار کے مطابق مجلس شوری کے ماتحت تعلیمی و سائنسی تحقیق کمیٹی نے کہا ہے کہ جو ایجنسیاں اور افراد طلبہ کے لیے تحقیقی مقالے اور مضامین تیارکررہے ہیں وہ ایک طرح سے سعودی عرب کی نئی نسل کو بگاڑ رہے ہیں۔ ان کے اس کاروبار کی وجہ سے یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے طلبہ کا معیارگررہا ہے۔ جامعات کے طلبہ کے لیے تحقیقی مقالے تیار کرنا علمی بدعنوانی ہے۔ مجلس شوری کی کمیٹی نے یہ بھی کہا علمی تحقیق کے سلسلے میں ضابطہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے۔ ہر طرح کی علمی بدعنوانی کو جرم قرار دیا جائے۔ ایسا کرنے والے طالب علم یا طالبہ کے خلاف محکمہ جاتی تادیبی کارروائی پر اکتفا نہ کیا جائے۔