تخلیقی توانائی رکھنے والے نوجوان شعراء مستقبل کا سرمایہ

   

اردو گھر میں ’’تنظیم ادب‘‘ کے اجلاس سے دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 12 اکٹوبر (پریس نوٹ) ادب کے دبستانوں میں دبستان دکن کی اپنی تاریخ ہے اور ہر دبستان کی پہچان قابل اساتذہ اور قابل تلامذہ سے ہوتی ہے۔ فی زمانہ حیدرآباد میں اگر ایسا کوئی دبستان ہے تو وہ سردار سلیم کی تربیت گاہ ہے جہاں سے شعراء اس طرح ڈھل کر نکلتے ہیں جیسے لکھنؤ کی ادبی ٹکسال سے سکے ڈھلا کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد رحیم الدین انصاری صدرنشین تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے اردو گھر مغلپورہ حیدرآباد میں منعقدہ تنظیم ادب کے پروگرام ’’نام ہے میرا شباب‘‘ کے کل ہند مشاعرہ و اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ اس پروگرام میں ملک کے مختلف حصوں سے معتبر نوجوان شعراء کو مدعو کیا گیا تھا۔ جناب اسلم فرشوری نے تمام شعراء کو ان کی عمدہ شاعری پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مشاعروں کے اسٹیج پر ایسی اعلیٰ و ارفع تخلیقی صلاحیتوں کے حامل شعراء کم ہی نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر م ق سلیم نے اپنے مضمون میں نہ صرف عنوان کی تشریح کی بلکہ قدیم و جدید اشعار کے حوالے بھی دیئے۔ ماہر تعلیم جناب فاروق طاہرنے شکیب جلالی اور اسرالحق مجاز کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک اچھا شاعر تیس چالیس سال کی عمر میں دنیائے ادب کو ایسی معیاری شاعری سے مالامال کرجاتا ہے جو بعض شعراء کیلئے ستر، اسی سال میں بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔ صدر تنظیم ادب سردار سلیم نے اپنے افتتاحی کلمات میں شرکاء محفل کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام کے خدوخال پر روشنی ڈالی۔ مولانا ڈاکٹر سید عبدالمہین قادری لاابالی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ حیدرآباد ادب کا گہوارہ ہے جہاں مخدوم، جامی اور شاذتمکنت جیسے عظیم شعراء نے جنم لیا ہے۔ آج ادبی روایتیں دم توڑ رہی ہیں۔ اگر کہیں روشنی کی کوئی کرن ہے تو وہ ادب گاہ کا دبستان ہے جہاں فنون ادب کی درس و تدریس کے ذریعہ نسل نو کو بہترین انداز میں علم و فن سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ سید تمجید حیدر نے اس تاریخ ساز مشاعرہ کی صدارت کی۔ معتمد تنظیم ادب ڈاکٹر معین افروز نے نظامت کی۔ مہمان شعراء میں غوثیہ خان سبین (بھوپال)، احمد اورنگ آباد، ڈاکٹر نصرت حنفی (اورنگ آباد)، پرنو شرما سائنسداں (آگرہ)، سومیہ وینکٹیش (پونے)، سوجنا ستیہ وارا (وشاکھاپٹنم)، عمر صدیقی (لکھنؤ)، وسیم جھنجھانوی، مسرور نظامی (بسواکلیان) اور میزبان شعراء میں ڈاکٹر سید شاہ عبدالمہیمن پاشاہ قادری، سید جعفر شرفی، سید جلیس، ریاست علی اسرار، نعمان اثر، مخدوم جمالی، ساجد سنجیدہ، محترمہ غوثیہ بانو، علی بخاری، مکرم فیضان، اسمعیل قدیر، محمد بن احمد باوزیر، ذکی حیدر، فیِض جنگ، فضیل فوذ، محسن نواز، شجر علی، سراج یعقوبی، محمد اسلم احقر اور ڈاکٹر معین افروز نے کلام سنایا۔ شکیل ظہیرآبادی نے تمام شعراء و ادباء سامعین اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔