ترقی اور امن کے پیغام کو عام کرنے ایس آئی او کی مہم

   

Ferty9 Clinic

عوام سے گھر گھر ملاقات ، کارنر میٹنگس ، لیکچرس اور دانشوروں کے ساتھ میٹنگس
نظام آباد: 18 ؍ جون( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد افضل (سٹی سکریٹری ایس آئی او) نظام آباد کی اطلاع کے بموجب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ریاست تلنگانہ کی جانب سے ایک اہم ریاست گیر مہم بعنوان “Build our country” چلائی جارہی ہے جو کہ17 جون تا 30 جون تک چلے گی، اسی مناسبت سے آج پریس کلب پر ایک اہم پریس میٹ منعقد کی گئی جس کے ذریعہ سے اس مہم کا نظام آباد میں آغاز کیا گیا۔ حافظ خلیل احمد نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی او کا احساس ہے کہ 2019 انتخابات نے ملک کے سماجی دھارے کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور سیاسی جماعتوں نے جیت حاصل کرنے کے لئے سماج کے مختلف طبقات میںبڑے پیمانے پر نفرت کو فروغ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے ، ایک طرف سیاسی جماعتوں نے اس طرح کا کام انجام دیا ہے تو دوسری طرف میڈیا نے اپنے مفادات کی خاطر شہریوں کے اندر ذہر بھر دیا ہے ۔ انتخابات کی اس ہار جیت کے درمیان جو چیز باقی رہ گئی وہ انتخابی فضلہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انتخابی سرگرمیوں اور ریالیوں کے دوران سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے اوپر بڑی بے حسی سے الزام تراشی اور کیچڑ اچھالا ہے، اور گروپ بندیوں و فرقہ واریت کے ذریعہ ملک کے تانے بانے کو شدید نقصان پہچایا ہے۔ انتخابات تو ختم ہو چکے ہیں لیکن ان سب کے مضر اثرات تادیر قائم رہیں گے جن کا ازالہ از حد ضروری ہے۔ دستور کی کھلے عام خلاف ورزی ملک کے دستوری ڈھانچہ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہیکہ ملک کے سیکولر اور امن پسند عوام متحدہ طور پر ملک کے سیکولر ڈھانچہ کے تحفظ کے لئے آگے آئیں اور نفر ت کے اس ماحول میں امن و پیار کے پیغام کو عام کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں۔ اسی مقصد کے تحت ایس آئی او ایک اہم مہم کا آغاز کررہی ہے ۔ اس مہم کے تحت ریاست بھر میں عوام سے گھر گھر جاکر ملاقات کرتے ہوئے انھیں اس مقصد کی جانب متوجہ کیا جائے گا ۔ اس مہم کے دوران مختلف پروگرامز منعقد ہوں گے جس میں سب سے اہم کام انفرادی ملاقاتیں ہیں۔ ایس آئی او نظام آباد کا منصوبہ ہے کے شہر کے کم از کم 10 ہزار ہندو مسلم مکانات تک پہنچ کر اس پیغام کو عام کیا جاے گا، اس کے علاوہ کارنر میٹنگ و نکڈ میٹنگ کے ذریعہ عوام الناس تک پہنچا جائے گا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ، مختلف سماجی ، ملی و طلبہ تنظیموں ، دانشوروںاور سماج کے نمائندہ شخصیات کے ساتھ میٹنگ ، کمیپس لکچرس وغیرہ کے ذریعہ اس پیغام کو عام کرنے اور اس ذہر کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس پریس کانفرنس میں جنید حفیظ (رکن ریاستی مجلس شوریٰ)، محمد فراز احمد (رکن ریاستی مجلس شوریٰ)، عامر خان (سکریٹری)، مطیع الرحمٰن (سکریٹری)، مدثر قمر و دیگر موجود تھے۔