ترقی و کورونا کی روک تھام پر توجہ ‘ ناراض سرگرمیوں پر تبصرہ نہیں

   

ارکان اسمبلی کی خفیہ ملاقاتوں پر چیف منسٹر کرناٹک بی ایس ایڈورپا کا پہلا رد عمل

بنگلورو ۔ یکم جون ( سیاست ڈاٹ کام ) کرناٹک میں برسر اقتدار بی جے پی میں ناراض سرگرمیوں کے دوران چیف منسٹر بی ایس ایڈورپا نے آج کہا کہ وہ ریاست کی ترقی اور کورونا وائرس کو روکنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کی ترقی اور وائرس کو روکنے پر ہی توجہ دے رہے ہیں اور انہیں اب دوسرے مسائل کی فکر نہیں ہے ۔ ناراض سرگرمیوں کی اطلاعات پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ۔ ایڈورپا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی ۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے کچھ ارکان اسمبلی نے کہا تھا کہ ایڈورپا ان کے لیڈر نہیں ہیں۔ اس جانب توجہ دلائے جانے پر ایڈورپا نے کہا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی میں اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے کچھ ارکان اسمبلی کا ایک اجلاس علیحدہ منعقد ہوا تھا جس پر ایڈورپا نے پہلا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ تاہم انہوں نے حالیہ اجلاسوں یا ناراض سرگرمیوں پر کوئی راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ ارکان اسمبلی کی وزارتی خواہشات ‘ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل کے مجوزہ انتخابات کی وجہ سے بی جے پی میں اندرونی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں اور شمالی کرناٹک سے تعلق رکھنے والے تقریبا بارہ ارکان اسمبلی نے ایک سینئر رکن اسمبلی اومیش کٹی کی قیامگاہ پر جمعرات کو ملاقات کی تھی ۔ اومیش کٹی آٹھ مرتبہ کے رکن اسمبلی ہیں اور وزیر نہ بنائے جانے پر ناراض ہیں۔ وہ اپنے بھائی رمیش کٹی کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دلانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کٹی کے ساتھ اجلاس میں شریک کئی ارکان اسمبلی نے اس اجلاس کو زیادہ اہمیت دینے سے انکار کیا ہے اور اسے صرف ایک رسمی ملاقات قرار دیا ہے تاہم ایک اور سینئر رکن اسمبلی بسنا گوڑا پاٹل یتنال کے ریمارکس سے اختلافات کی توثیق ہوئی ہے ۔ یتنال نے اپنی وزارتی خواہش یا چیف منسٹر کے خلاف بغاوت کی تردید کی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ان کے لیڈر ہیں اور ایڈورپا صرف ایک چیف منسٹر ہیں۔ ریاستی قیادت میں کسی تبدیلی سے متعلق سوال پر یتنال نے کہا کہ اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ کرنا ہائی کمان کا کام ہے اور وہ درست مقام پر اپنی رائے ظاہر کرینگے ۔ ذرائع کے بموجب کئی ارکان اسمبلی نے اجلاس میں اپنے حلقہ انتخاب کیلئے رقم فراہم نہ کئے جانے اور چیف منسٹر ایڈورپا کے طرز کاکردگی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ حالانکہ بی جے پی کا ایک حلقہ اس اجلاس کی اہمیت کو کم کر رہا ہے لیکن کچھ دوسروں نے کہا کہ یہ چیف منسٹر کے خلاف طاقت کا مظاہرہ ہے ۔