دنیا کے 9 ممالک پر اثرات مرتب ہونے کا امکان، نیویارک مارکٹ کے بعد چین اور جرمن کی مارکٹوں میں گراوٹ
حیدرآباد۔15اگسٹ(سیاست نیوز) دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بالخصوص امریکہ تیزی سے معاشی انحطاط کی سمت رواں دواں ہے اور اس کے اثرات فوری طور پر دنیا کے 9ممالک پر ہونے کا قوی امکان ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ نے امریکی معیشت کو انحطاط کا شکار بنادیا ہے اور اس کا منفی اثر اب چین پر بھی دیکھا جانے لگا ہے ۔ ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ امریکہ میں 30 سال بعد اس طرح کے معاشی انحطاط کی صورتحال کا مشاہدہ کیا جانے کا خدشہ ہے کیونکہ اب تک جو معاشی انحطاط کی صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کے اثرات ملک کے اندرونی حالات پر اثر انداز ہورہی تھی لیکن اب جو معاشی انحطاط کی صورتحال ہے اس کا اثر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر یوروپی و ایشیائی ممالک پر ہوگا کیونکہ ان کے تجارتی روابط نہ صرف امریکہ بلکہ چین سے بھی ہیں اور تجارت پر ہونے والے اثرات کے باعث معاشی انحطاط کا بیشتر ممالک کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیویارک مارکٹ میں گراوٹ کے بعد چین اور جرمن کے حصص بازاروں میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ پر ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ان ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اس کے اثرات دیکھنے کو ملیں گے ۔ بتایاجاتا ہے کہ امریکہ میں معاشی انحطاط کے فوری اثرات چین ‘ جرمنی‘ شمالی کوریا‘روس‘ ارجنٹینا‘سنگاپور‘ برازیل‘ اٹلی ‘میکسیکو اور برطانیہ شامل ہیں۔امریکہ کو درپیش معاشی انحطاط کی صورتحال پر عالمی ماہرین معاشیات تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر موجودوہ صورتحال آئندہ چند ماہ کے دوران برقرار رہی تو امریکہ کو اس صورتحال سے باہر آنے کیلئے 3 دہائی درکار ہوسکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ امریکی معیشت میں 31 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے جو کہ اب تک کی سب سے خطرناک معاشی صورتحال تصور کی جا رہی ہے ۔ ماہرین معاشیات کہا دعوی ہے کہ امریکہ کی جانب سے چینی اشیاء پر اضافی ٹیکس عائد کئے جانے کے بعد بھی امریکی عوام کی جانب سے وال مارٹ سے خریدی کے رجحان میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے لیکن اس کا اثر گھریلو تیار کردہ اشیاء پر مرتب ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے کمپنیوں اور صنعتی اداروں نے ملازمین میں تخفیف کا عمل شروع کردیا ہے اور خود صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر جگہ وہ ملازمین کو فائر (ملازمت سے بیدخل)کئے جانے کی اطلاع موصول ہورہی ہے لیکن کہیں سے فائر فائٹرس کی کوئی اطلاع نہیں آرہی ہے۔ ان حالات میں اگر امریکہ معاشی انحطاط کا شکار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں امریکہ کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی اور اس سرمایہ کاری کیلئے امریکہ ان ممالک کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے جو تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی اپنی معیشت کو مستحکم بنایاجائے۔ حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک میں معاشی انحطاط کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو خلیجی ممالک کے سربراہان کی جانب سے ان ممالک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متعدد اعلانات اور مراعات دینے کے فیصلے کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی صورتحال پر قابو نہیں پایاجاسکا بلکہ معاشی انحطاط کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے غیر ملکی ملازمین کو ملازمتوں سے بے دخل کرتے ہوئے ان کی جگہ مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے جس کے نتیجہ میں ان ممالک کی معیشت عدم استحکام کا شکار ہونا شروع ہوگئی جن ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو ملازمتوں سے بے دخل کیا گیا تھا ۔ ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ امریکہ کو درپیش معاشی انحطاط بھی اسی راہ پر ہے اور اگر امریکہ میں موجود صنعتی اداروں اور کمپنیو ںمیں خدمات انجام دینے والے غیر ملکیوں کو ملازمتوں سے بے دخل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دنیا کے بیشتر ممالک میں معاشی عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوگی ۔
