ترکاریوں کی پیداوار میں تلنگانہ ملک کی ماڈل ریاست بننے کے موقف میں

   

ہارٹیکلچر یونیورسٹیوں میں کسانوں کا ٹریننگ پروگرام، ڈاکٹر شیخ میراں اور وائس چانسلر راجی ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ ترکاری کی پیداوار میں ملک میں ایک اہم اور ماڈل مرکز کے طور پر ابھرسکتا ہے اور ترکاری کی پیداوار میں ریاست خود مکتفی ہونے کے موقف میں ہے۔ ڈائرکٹر اگریکلچر ٹکنالوجی اپلیکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر شیخ میراں نے ہارٹیکلچر یونیورسٹی اور ڈپارٹمنٹ آف ہارٹیکلچر کی جانب سے مشترکہ طورپر منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر شیخ میراں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ترکاری کی پیداوار میں توسیع دیں بلکہ ہر کسان کم از کم پانچ دوسرے کسانوں کو ویجیٹبل پروڈکشن کیلئے راغب کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر فوڈ سیکوریٹی کا نشانہ مکمل کیا گیا ہے لیکن نیوٹریشن کے اعتبار سے سیکوریٹی ترکاریوں کی دستیابی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ کسانوں کو چاہئے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ترکاری کی پیداوار میں توسیع میں اہم رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ 1.5 لاکھ ایکر پر ترکاری کی پیداوار میں توسیع سے مارکٹ میں ترکاری کی قیمتوں میں کوئی خاص فرق نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیمیاوی کھاد کے استعمال کے بغیر ترکاری کی پیداوار کی سماج میں زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے مستقبل میں مرچ اور ٹماٹر کے پروسیسنگ یونٹس کے قیام کے ذریعہ کسانوں کے لئے صنعتی سرگرمیوں کے امکانات پر روشنی ڈالئے۔ وائس چانسلر کونڈا لکشمن تلنگانہ ہارٹیکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر ڈی راجی ریڈی نے کہا کہ کسان آسان طریقہ کار اور اقل ترین سرمایہ کاری کے ذریعہ اپنی پیداوار میں 30 فیصد کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ پرائمری اگریکلچر کوآپریٹیو سوسائٹیز کے ذریعہ ریاست میں ترکاریوں کی پیداوار کے بارے میں ایک عوامی تحریک شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے پیداوار میں غیر معیاری کھاد کے بجائے قدرتی اور آرگیانک طریقے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت کی اسکیمات کے تحت بیجوں کے حصول ، ڈرپ اریگیشن سسٹم اور دیگر شعبہ جات میں سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے۔ پروگرام کے تحت 7 اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو پیداوار کے آسان اور عصری طریقوں سے واقف کرایا گیا۔ زرعی سائنسدانوں نے کسانوں کے سوالات کے جواب دیئے اور ٹریننگ پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں شرٹیکٹس تقسیم کئے گئے۔ یونیورسٹی کے سینئر عہدیداروں ، ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کے نمائندوں ، زرعی سائنسدانوں اور کسانوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔1