مسلسل بارش سے فصلیں تباہ ، ڈیزل و پٹرول کے بھاؤ میں اضافہ سے اخراجات بھی گراں بار
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں گذشتہ ایک ہفتہ سے جاری بارش سے جہاں سیلاب جیسی صورتحال سے مشکلات کا سامنا رہا اب بارش کے ختم ہونے کے بعد ایک اور نئی مشکل دستک دینے کے لیے تیار ہے ۔ حالانکہ بارش کے دوران نشیبی علاقہ ہی متاثر ہوئے اور انسانی زندگی کا نظام متاثر ہوا لیکن اب جو دستک دینے والی چیز ہے وہ شہر کے ہر حصہ اور شعبہ کو متاثر کرنے والی ہے حالانکہ قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی سے لاتعلقی اور بے حسی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے تاہم اب ترکاریوں کی قیمتیں مہنگائی کے عروج پر پہونچنے والی ہیں ۔ ترکاری مارکٹ کے کاروباری اور چلر فروش تاجروں کے مطابق بارش کے سبب ترکاری کی فصل کو حاصل کرنا مشکل ہوا ہے اور دوسری طرف ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ترکاری کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب مانی جاتی ہیں ۔ فصلوں کو حاصل کرنے میں مشکلات کے سبب مارکیٹ میں اس کی آمد مشکل ہوگئی ہے جس کے سبب قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان موجودہ قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کی بڑی ترکاری مارکٹوں کو شہر کے نواحی علاقوں اور اضلاع سے ترکاری پہونچنے میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ جب کہ پڑوسی ریاستوں سے بھی 4 دن کا عرصہ گذرنے کے باوجود ترکاری مارکٹ تک نہیں پہونچائی ہے ایک طرف فصلوں کو حاصل کرنا جس طرح مشکل ہے تو دوسری طرف گاڑیوں کی آمد و رفت بھی مشکل بن گئی ہے ۔ ان حالات میں ہرا مسالہ ، ہری مرچ و دیگر ترکاریوں کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔ اب مارکٹ میں ترکاری دستیاب ہے وہ مارکٹ میں ہول سیلر کی جانب سے ذخیرہ کی گئی ترکاریاں ہیں ۔ گذشتہ ہفتہ اور موجودہ قیمت کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ترکاریوں کی قیمت کس قدر مہنگی ہوئی ہیں ۔۔A