ترکمان گیٹ سنگباری کیس:مزید 6افراد گرفتار

,

   

30 مشتبہ افراد کی شناخت، گرفتاری کیلئے پولیس کے دھاوے
نئی دہلی۔8؍جنوری ( ایجنسیز ) رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ اور فیض الٰہی مسجد کے قریب تجاوزات کیخلاف انہدامی کارروائی کے دوران ہوئی سنگباری کے سلسلے میں پولیس کارروائی جاری ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں اب تک 30 افراد کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس نے کل اس سلسلہ میں 5افراد کو گرفتار کیا تھا جبکہ آج مزید 6افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی عمریں20تا30سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ پولیس کی متعدد ٹیمیں دیگر ملزمین کی گرفتاری کیلئے دھاوے کررہی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر میونسپل کارپوریشن آف دہلی کی جانب سے شروع کی گئی انہدامی کارروائی کے دوران سات جنوری کی آدھی رات کے بعد تقریباً 1.30 بجے صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب فیض الٰہی مسجد کے قریب کچھ لوگوں نے پولیس اور ایم سی ڈی کے اہلکاروں پر سنگباری شروع کر دیا۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو ہلکی طاقت اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران جھڑپوں میں کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ اس معاملے میںکل پانچ مبینہ کلیدی ملزمان (سمیر، محمد اریب، محمد کاشف، محمد عدنان، اور محمد کیف) کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ واقعہ منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب پیش آیا۔ پولیس اس معاملے میں سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی محب اللہ ندوی کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تشدد شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے رکن اسمبلی جائے وقوع پر موجود تھے۔ پولیس جلد ہی انہیں تفتیش میں شامل ہونے کیلئے طلب کر سکتی ہے۔ اس وقت ترکمان گیٹ کے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔اس واقعے کے بعد سے پورے ترکمان گیٹ کے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے میں وسیع رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، اور دہلی پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں کو ہر گلی، چوراہے اور داخلی مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔