ترکیہ اسرائیل کیخلاف مقدمہ میںشامل ہوگیا

   

انقرہ : ترکیہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر مقدمے میں ترکیہ کی درخواستِ شمولیت اس اہمیت کی عکاس ہے جو ترکیہ دعوی فلسطین کے قانونی حل کو دیتا ہے۔ترکیہ وزارت خارجہ نے، جنوبی افریقہ کے، بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں، اسرائیل کے خلاف دائر کروائے گئے مقدمے میں ترکیہ کی شمولیت کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ جمہوریہ جنوبی افریقہ کی طرف سے، 1948 کے نسل کشی کے سدّباب اور ارتکابِ جْرم کی صورت میں سزا کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی وجہ سے، اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں دائر کروائے گئے مقدمے پر پہلے دن سے نگاہ رکھے ہوئے ہے”۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ” مقدمے میں شمولیت کے امکانات کے محتاط جائزے کے بعد ترکیہ نے دعوے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ خاقان فیدان نے یکم مئی 2024 کو اس فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران وزارت خارجہ، متعلقہ اداروں اور تنظیموں کی مدد و تعاون سے ایک جامع قانونی مرحلے کے بعد مقدمے میں شمولیت کی درخواست کا تصدیق نامہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 63 ویں شق کے دائرہ کار میں اور بحیثیت نسل کشی سمجھوتے کے فریق ملک کے 7 اگست 2024 کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ مقدمے میں شمولیت کا فیصلہ اس اہمیت کا عکاس ہے جو ترکیہ مسئلہ فلسطین کے قانونی حل کو دیتا ہے۔ انسانی وجدان، بین ا لاقوامی قانون، اسرائیلی حکام کی جوابدہی کو یقینی بنائے گا۔