انقرہ: ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شنتوپ نے چیکیا سینیٹ کے اسپیکر میلوس ویسٹرسل سے ملاقات کی۔چیکیا کے دارالحکومت پراگ میں منعقد ہونے و الے پارلیمانی اسپیکران کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی غرض سے موجود ہونے والے شنتوپ کی یہ ملاقات بند کمرے میں سر انجام پائی۔اس ملاقات کے دوران روس۔ یوکرین جنگ، فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو رکنیت اور یورپی یونین کی وسعتی پالیسیوں پر غور کیا گیا۔ شنتوپ نے کہا کہ اس نازک دور میں لیے جانے والے فیصلے اہم ہیں، یورپی یونین خطے میں اور دنیا میں رونما ہونے والی پیش رفت کے معاملے میں رد عمل کا مظاہرہ کرنے میں نہ صرف پیچھے رہ گئی ہے بلکہ اس نے ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مولڈووا اور یوکرین کے سلسلہ رکنیت یورپی یونین کے بارے میں اقدامات اس سے قبل بھی اٹھائے جا سکتے تھے ، خطہ بلقان کی رکنیت کے حوالے سے بھی بروقت اور موثر فیصلے نہیں کیے گئے ۔ شنتوپ نے کہا کہ ” یورپی یونین کو زیادہ سرعت ، زیادہ موثر اور حقائق پسند فیصلے کرنے چاہیئیں۔ ترکیہ کے ساتھ تعلقات اس تناظر میں اہم ترین مثال تشکیل دیتے ہیں۔ یورپی یونین کے ترکیہ کے ساتھ تعلقات سٹریٹیجک فیصلوں پر مبنی ہیں، جنہیں قبرصی یونانی انتظامیہ یا یونان کے بعض تنگ نظری پر مبنی نقطہ نظر کے زیر ِ تسلط آتے ہوئے شکل دینا ایک فاش غلطی ہے ۔