انقرہ : ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے چند روز قبل ملک کیلئے نئے آئین کو مرتب کرنے کے اپنے اعلان کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ اگست کو بھی یہی اعلان کیا تھا۔ اس قدم کی کامیابی کو حکمران جماعت نے سیاسی جماعتوں کے تعاون سے جوڑ دیا تھا۔ کیا اردغان نیا آئین نافذ کر سکیں گے؟ اس نئے آئین کا مقصد کیا ہے؟اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور یونیورسٹی کے پروفیسر بلال سمبورنے کہا ہیکہ ترک صدر کی جانب سے نئے آئین کے معاملہ کو اٹھانا اور نیا آئین بنانے کی تجویز دینا کوئی ہنگامی نوعیت کا معاملہ نہیں ہے۔ بلال سمبور انقرہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ہیں۔ بلال نے میڈیا کو مزید کہا کہ حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے سال 2000 سے ملک کیلئے ایک جمہوری آئین کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک انہوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ اور اس کی اتحادی انتہائی دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے آئین کا مسودہ پہلے ہی تیار کرلیا ہے لیکن انہیں ابھی تک وہ عوامی اور سیاسی حمایت نہیں ملی ہے جو حقیقت میں یہ قدم اٹھانے کے لیے درکار ہے۔ انہوں نے کہا یہ دونوں جماعتیں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو اپنے مقصد کے حصول کے لیے اب ایک مقبول ریفرنڈم کا سہارا لے سکتی ہیں۔کچھ روز قبل ترک صدر نے ملک کے لیے ایک نئے سول آئین کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی اور وضاحت کی کہ اس مقصد کو حاصل کرنا پارلیمانی بلاکس کے پارلیمان کے اندر موجود جماعتوں کے مثبت ردعمل سے منسلک ہے۔ انہوں نے ترکیہ کے لیے ایک نئے آئین کے مسودے کی تیاری کے معاملے پر بھی بات کی۔