انقرہ ؍ ایتھنز: ترکی اور یونان کے وزرائے خارجہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے تاہم یہ اچانک تلخ کلامی میں تبدیل ہوگئی۔ترکی اور یونان کے وزرا ئے خارجہ کے درمیان جمعرات 15 اپریل کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس بڑے خوشگوار ماحول میں شروع ہوئی تاہم بڑی تیزی سے ماحول خراب ہو گیا اور کانفرنس ایک دوسرے پر الزام تراشی میں تبدیل ہو گئی۔ترکی کے وزیر خارجہ مولود اوغلو اور ان کے یونانی ہم منصب نکوس دیندیاس نے دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کئی مہینوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات کی بہتری کے لیے انقرہ میں ملاقات کی تھی۔ دونوں ملکوں میں مشرقی بحیرہ روم کے پانیوں میں سرحدی تنازعے اور اس حوالے سے گزشتہ برس فوجی ٹکراؤ جیسے مسائل پر بات چیت ہونی طے تھی۔اس حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز تو بڑے خوشگوار ماحول میں ہوا تاہم کانفرنس کے دوران ہی جب یونان کے وزیر خارجہ دیندیاس نے ترکی پر یہ کہہ کر تنقیدشروع کر دی کی کہ یونان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے بدلے میں پابندیاں عائد کی جائیں گی، تو دونوں رہنما آپس میں لڑ پڑے۔یونان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی کی فضائیہ نے کئی بار یونانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور متنبہ کیا کہ ترکی کو ”جعلی خبریں ” پھیلانے سے باز رہنا چاہیے۔ اس موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے کہا کہ یہ قطعی طور پر نا قابل قبول ہے اور یونانی وزیر خارجہ اپنے گھریلو مقاصد کے لیے اس میٹنگ کا استحصال کر رہے ہیں۔
