ترکی کے رویے پر ناٹو کی وضاحت

   

برسلز: ناٹو کے سکریٹری جنرل ینس اسٹالٹن برگ نے ترکی کے رویّے کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے باور کرایا کہ ناٹو اتحاد انقرہ سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔یورپی پارلیمان کے ارکان کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے اسٹالٹن برگ کا کہنا تھا کہ ناٹو اتحاد اس حقیقت کو جانتا ہے کہ بعض فیصلوں کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اختلافات موجود ہیں۔ ان میں ترکی کی جانب سے روس سے “ایس 400” دفاعی میزائل نظام کی خریداری یا ترکی میں جمہوری حقوق سے مربوط امور شامل ہیں۔ترکی نے اپنے رویّے کے سبب 30 ممالک پر مشتمل ناٹو اتحاد میں اپنے متعدد حلیفوں کو برہم کر دیا۔ اس کی وجہ یونان کے ساتھ سمندری حدود پر تنازع اور شام، لیبیا اور نگارنو کاراباخ میں تنازعات میں انقرہ کا خود کو ملوث کرنا ہے۔یونان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا تھا کہ ترکی وسائل کی دریافت سے متعلق بات چیت جاری رکھنے کے لیے اپنے نیک ارادوں کا اظہار کرے۔