برسلز: یورپی یونین کا سربراہ اجلاس آج ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں قبرص اور یونان کی جانب سے ترکی کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ سامنے آئے گا۔ اس سے قبل ترکی نے اپنے کھدائی کے بحری جہاز ’’اروچ ریس‘‘ کو ان بحری علاقوں میں واپس پہنچا دیا تھا جس کے بارے میں یونان کا کہنا ہیکہ یہ اس کی خود مختاری کا حصہ ہے۔ دوسری جانب ترکی انہیں متنازعہ علاقے شمار کرتا ہے۔برسلز میں ایک اعلی سطح کے سفارتکار نے آئندہ دو روز کے دوران سربراہ اجلاس میں ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ تاہم قریبی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ آج دوپہر میں اکٹھا ہونے والے سربراہان کی میز پر پیش کیا جائے گا۔ یورپی یونین کی قیادت بحیرہ روم کے مشرق کا بحران جمعہ کی صبح زیر بحث لائے گی۔رواں ماہ کے آغاز پر یورپی یونین کے رہ نماؤں نے اپنے اجلاس میں بحیرہ روم کے مشرق میں درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے دو راستوں کا تعین کیا تھا۔ پہلے آپشن میں انہوں نے ترکی کو پیشکش کی تھی کہ وہ قبرص اور یونان کے پانی سے اپنے جہازوں کو واپس بلا لے، یکطرفہ کارروائیوں کا سلسلہ روک دے اور یونان کے ساتھ اختلافات کے حل کی تلاش کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائے۔ اس کے مقابل یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تعاون کو گہرا بنانے کے لیے ایک مثبت منصوبہ عمل میں لایا جائے گا۔ البتہ اگر ترکی نے اپنی غیر قانونی شرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو دوسرا آپشن یہ ہے کہ یورپی یونین اتحاد کے مفادات کے تحفظ کے واسطے ’’دستیاب میکانزم‘‘ کا استعمال کرے گا۔ اس میں ترکی کے خلاف پابندیوں کی جانب اشارہ کیا گیا۔واضح رہے کہ بحیرہ روم کے مشرق کی صورتحال کے علاوہ یورپی یونین کو کورونا وائرس اور برطانیہ اور یوپی اتحاد کے درمیان شراکت داری کے مستقبل نے مصروف کر رکھا ہے۔ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کل چہارشنبہ کے روز یونان اور قبرص پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے یورپی یونین اور ناٹو کے ساتھ مذاکرات کے دوران کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ اردغان نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ ان کا ملک اس جوابی کارروائی کو جاری رکھے گا جن کے یہ ممالک مستحق ہیں۔