تریپورہ میں بی جے پی کی وقف ترمیمی ایکٹ کے فوائد بتانے کی جوابی مہم

   

ریاستی سطح پر ورکشاپ سے چیف منسٹر ڈاکٹر مانک ساہا کا خطاب، مسلمانوں سے نہ گھبرانے کی اپیل

اگرتلہ: ملک کے کئی حصوں میں مظاہروں کے درمیان، تریپورہ میں حکمراں بی جے پی نے حال ہی میں منظور شدہ وقف ترمیمی قانون کے فوائد کو اجاگر کرنے کے لیے جوابی مہم شروع کی ہے ۔ ترمیم شدہ وقف ایکٹ کے فوائد پر بی جے پی لیڈروں کے لیے ریاستی سطح کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ بپلب کمار دیب، بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو بھٹاچاریہ اور بی جے پی کے قومی سکریٹری انل انٹونی نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ اس لہر سے نہ گھبرائیں اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں جس سے امن خراب ہو۔ ڈاکٹر ساہا نے کہا کہ وقف املاک کے غلط استعمال، دفعہ 40 کے غلط استعمال، زمینوں پر قبضے اور سیاست دانوں کے ایک حصے کے بدعنوانی کے دیگر الزامات سے نمٹنے کے لیے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 منظور کیا گیا ہے ۔ چونکہ وقف ایکٹ 1995 میں موجود خامیوں سے غریب مسلمان بری طرح متاثر ہوئے تھے ، اس لیے اس میں ترمیم کرکے اسے روکا گیا ہے ۔ ڈاکٹر ساہا نے الزام لگایا کہ سابقہ کئی مواقع کی طرح کانگریس اور کمیونسٹ اس قانون کی روح اور دفعات کی غلط تشریح کرکے عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق کو ہٹانے کے دوران بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ میں مسلمانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ تمام کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پہلی بار 1954 میں وقف بورڈ تشکیل کیا تھا اور 1995 میں وقف بورڈ کے لیے ایک قانون بنایا گیا تھا، سال 2013 میں وقف بورڈ کو کچھ اختیارات دیے گئے تھے ، جس کی وجہ سے زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد لیڈروں کا ایک طبقہ اپنے مفادات کے لیے یہ کام کر رہا تھا اور ان جائیدادوں سے کروڑوں روپے حاصل کر رہا تھا، اتنی بڑی جائیداد ہونے کے باوجود کوئی سماجی کام یا ترقیاتی کام نہیں ہوا، وقف املاک میں شفافیت کا فقدان تھا اور یہ بل شفافیت لانے کے لیے لایا گیا۔ تجاوزات سمیت کئی طویل مقدمات چل رہے ہیں۔