تری پورہ کے فساد زدہ علاقوں کے دوسرے کل جمعیۃ علماء ہند کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اگرتلہ میں ایک پریس کانفرنس کی اورسرکار کے سامنے پانچ نکاتی مطالبہ پیش کیا۔پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہاہے کہ تری پورہ ہمیشہ سے ایک پرامن ریاست رہی ہے ، یہاں ہندو اور مسلم کے نام پر کبھی بڑے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے ، لیکن ان دنوں جس طرح وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل وغیرہ نے ریاست کے پرامن ماحول کو زہرآلود کیاہے، جس کے نتیجے میں تری پورہ کے مختلف حصوں میں مسلم اقلیتوں کے مکانوں، دکانوں اور مساجد پر حملے کیے گئے ، وہ انتہائی قابل مذمت اور ملک کے وقار ، اتحاد و سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ اذیت کی بات یہ ہے کہ وشو ہند و پریشد کی ایک ریلی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقد س میں انتہائی نازیبا کلمات کہے گئے، لیکن آج تک پولس انتظامیہ نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا ۔یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے ، وہ ایک منظم فساد ہے ، ورنہ فساد الگ الگ حصوں میں نہ ہوتے..