بھینسہ15-۔مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشددکے چوتھے روزبھی کرفیو جاری ہے اورتمام تجارتی سرگرمیاں بندہے جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکررہ گئی اورغریب ومتوسط طبقہ کافی متاثرہورہاہے بھینسہ میں محکمہ پولیس حالات کومعمول پرلانے کیلیئے ہرممکنہ اقدامات کرتے ہوئے شہرمیں امن وامان اورگنگاجمنی تہذیب کوفروغ دینے کیلئے کوشاں ہے اورضلع ایس پی نرمل ششی دھرراجوبھینسہ میں قیام کئے ہوئے کڑی نظرمرکوزکئے ہوئے ہیں اورعوام میں اعتمادبحال کرنے کیلئے آج بھی بڑے پیمانے پرفلیگ مارچ پولیس اسٹیشن سے نکالاگیاجوبھینسہ کے اہم چوراہوں مذہبی مقامات حساس علاقوں سے گشت کرتے ہوئے رورل پولیس اسٹیشن میں اختتام پذیرہواجہاں ضلع نرمل ایس پی ششی دھرراجونے میڈیاکوبتایاکہ بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشددبرپاکرنے والے شرپسندوں کے خلاف سخت سے سخت کاروئی اورسخت دفعات کے علاوہ پی ڈی ایکٹ درج کرتے ہوئے ریمانڈکیاجارہاہے تاکہ بھینسہ میں مستقبل میں شرپسندعناصراسطرح کے واقعات کوہوانہ دے سکے۔ضلع ایس پی نے بھینسہ کی عوام سے کسی بھی افواہوں پرتوجہ نہ دینے اورپولیس کا تعاون کرتے ہوئے کسی بھی افواہ پرراست طورپرپولیس سے ربط پیداکرنے کی اپیل کی اورکہاکہ پولیس عوام کی حفاظت کیلئے ہروقت تیارہے اورشرپسندعناصرکوکچلنے کیلئے متحرک ہے اورشہری کووڈ19کے احکامات پرسختی سے عمل آوری کرتے ہوئے مکانوں میں رہنے کوترجیح دیتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیراختیارکرے۔بھینسہ میں ضلع ایس پی ششی دھرراجواورایڈیشنل ایس پیزوینکٹ ریڈی اورسرنیواس راؤ قیام کیئے ہوئے ہیں اوربھینسہ میں امتناعی احکامات نافذہیں۔ دونوں طبقات کے شرپسندوں کی سی سی ٹی وی کیمروں میں نشاندہی کرتے ہوئے گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے۔