نلگنڈہ میں ٹمریز ایس ایس سی کے 11 طلبہ سمیت غذا سے متاثر، واقعہ کا تاخیر سے انکشاف، انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی
نلگنڈہ ۔ اقلیتی اقامتی اسکول بوائز نلگنڈہ کے 11 طلباء سمیت غذا سے متاثر 5 کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے دواخانہ شریک کرلیا گیا۔ دیگر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسکول روانہ کردیا گیا۔ یہ واقعہ 22 مئی کی دوپہر پیش آیا لیکن اسکول انتظامیہ نے اس کو منظر عام پر آنے سے روکوانے کی ممکنہ کوشش کی۔ ایک اقلیتی قائد کو کل رات ملی اطلاع پر یہ منظر عام پر آیا۔ اطلاعات کے مطابق دسویں جماعت کے طلباء جو کہ پیر 23 مئی سے شروع ہونے والے امتحانات کی تیاری میں تھے ان طلباء کو دوپہر میں انڈا بریانی دیا گیا تھا جس کے بعد طلباء پیٹ میں درد، بخار اور قئے و دست کی شکایت پر فوری سرکاری دواخانہ سے رجوع کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے طلباء کے معائنہ کے بعد 6 طلباء کو طبی امداد فراہم کرکے روانہ کردیا مابقی 5 کو شریک کرلیا۔ ان زیر علاج طلباء کو انتظامیہ اسکول نے 23 مئی کے منعقدہ امتحان میں شریک بھی کروایا اور بعد امتحان دواخانہ کو 4 طلباء روانہ کیا۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے نہ ہی کوئی عہدیدار کو نہ سرپرستوں کو کوئی اطلاع دی گئی۔ 24 مئی کے امتحان کے بعد بھی تین طلباء دواخانہ میں زیر علاج ہیں۔ اس واقعہ کی اطلاع اقلیتی قائدین کی جانب سے ضلع کلکٹر کو بھی دی جوکہ بتایا جاتا ہے کہ بعد تحقیقات کے کارروائی کرنے کا تیقن دیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ٹمریز کے عہدیداروں کی جانب سے تاحال دواخانہ کا کوئی دورہ تک نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ ریجنل سیول کوآرڈینیٹر جو مقامی ہیں نے بھی متاثرہ طلباء اور ڈاکٹروں سے بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ عہدیداروں کی جانب سے اقلیتوں سے متعلق متعصب ذہنی پھر ایک بار اجاگر ہو گئی ہے۔ نمائندوں کی جانب سے ٹمریز کے اعلیٰ عہدیداروں کو مطلع کرنے پر ٹمریز کی میڈیکل ٹیم اس واقعہ پر گہری نظر رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ متاثرہ طلباء کے سرپرستوں نے اعلیٰ عہدیداروں اور اسکول انتظامیہ کے طرز عمل پر گہری تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ اسی دوران اقلیتی قائدین مسرز احمد کلیم، خواجہ غوث محی الدین ہاشم نے ضلع کلکٹر کو واقعہ کی اطلاع پر بعد تحقیقات کارروائی کا تیقن دیا۔