مرکزی و ریاستی اسکیمات میںاقلیتوں کی حصہ داری سے مسلسل تغافل ۔ ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود نے بھی توجہ نہیں دلائی ۔ قرض کے حصول میںمشکلات
محمد مبشرالدن خرم
حیدرآباد۔25 فروری۔تلنگانہ میں بینکوں کے ذمہ داروں بالخصوص اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی عہدیداروں کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہے کہ ریاست میں اقلیتوں کی صورتحال کیا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ بینکوں کا رویہ کس طرح کا ہے؟تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک حکومت کی جانب سے یا اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کی جانب سے اقلیتوں کیلئے مخصوص بینکرس کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں کیا گیا جبکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد 32 اجلاسوں میں کسان ‘ زرعی پالیسی ‘ امکنہ پالیسی کے علاوہ ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی امور پر مخصوص اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا لیکن اقلیتوں کو بینکوں کے ذریعہ فائدہ اسکیمات اور انہیں ملنے والے حصہ کا جائزہ لینے کوئی اجلاس منعقد نہیں کیاگیا اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود نے اس پر کوئی پیشرفت کی ۔ حکومت کی جانب سے بھی اے ایل بی سی کو اقلیتوں کے لئے اجلاس منعقد کرنے متوجہ نہیں کروایا گیا جبکہ امکنہ کیلئے مخصوص ایس ایل بی سی اجلاس میںاس وقت کے وزیر فینانس ای راجندرنے استفسار پر تیقن دیا تھا کہ جلد ہی اقلیتوں کیلئے مخصوص SLBCکے اجلاس کے اقدامات کریں گے۔متحدہ آندھراپردیش میں ایس ایل بی سی کے اجلاس میں نہ صرف بینک عہدیداروں بلکہ تمام بہبودی محکمہ جات کے علاوہ زرعی ‘ فینانس‘ امکنہ اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کو مدعو کیا جا تا رہا ۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر کی موجودگی میں اقلیتوں کیلئے ایس ایل بی سی کا اجلاس ہوا کرتا تھا اور اجلاس میں اقلیتوں کو بینکوں کے ذریعہ قرضہ جات اور استفادہ کنندگان کی تعداد وغیرہ سے واقف کروایا جاتا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد اب تک ایس ایل بی سی کے اجلاس میں اقلیتوں کا مخصوص تذکرہ یا عہدیداروں کی نمائندگی تک نہیں ہو پارہی ہے ۔16 ستمبر 2021 کو منعقدہ ایس ایل بی سی کمیٹی اجلاس میں اقلیتوں کا تذکرہ تک نہیں تھا ۔ اجلاس میں پیش رپورٹ کے مطابق جن ترجیحی شعبوں کو قرضہ جات فراہم کئے گئے ان میں 31مارچ 2020 تک اقلیتو ںکو 9623کروڑ 83 لاکھ کے پیشگی قرض تھے اور 30 ستمبر 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق اقلیتو ںکو 10 ہزار 648 کروڑ بطور قرض جاری کئے گئے ہیں لیکن اس بات کی صراحت نہیں کی گئی کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے اقلیتوں کو قرض کی فراہمی کیلئے کتنا نشانہ مقرر کیا تھا۔ایجنڈہ رپورٹ میں رقم کا مشاہدہ کرنے پر بات واضح ہوتی ہے کہ ایس ایل بی سی کی جانب سے اقلیتوں کو بھاری قرضہ جات کی اجرائی عمل میں لائی گئی لیکن پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت تلنگانہ میں جاری قرضہ جات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہزاروں کروڑ کے قرضہ جات کے اعداد و شمارمحض اعداد و شمار ہیں اور یہ قرض پانے والے غریب یا متوسط تاجرین نہیں بلکہ سرکردہ تاجرین یا سرمایہ دار ہیں۔30ستمبر 2021 تک پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت مجموعی طور پر اقلیتوں کیلئے 95.24 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ ان استفادہ کنندگان کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد 11ہزار504 ہوتی ہے۔پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت تین اسکیمات شیشو‘ کشور اور ترون میں اگر استفادہ کنندگان کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے تحت شیشو جو 50 ہزار تک کے قرض کی سہولت فراہم کرتی ہے اس میں 9188 استفادہ کنندگان ہیں جن میں 21کروڑ84 لاکھ تقسیم کئے گئے جبکہ کشور اسکیم جس کے تحت 5لاکھ روپئے تک کا قرض حاصل کیا جاسکتا ہے اس سے 1765 اقلیتی افراد نے استفادہ کیا جن میں 31 کروڑ 33لاکھ روپئے تقسیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت 10 لاکھ روپئے تک کے قرض کی اسکیم ترون کے تحت 551 اقلیتی افراد کو جملہ 42کروڑ7لاکھ روپئے جاری کئے گئے ۔تلنگانہ میں اسکیم کے تحت جملہ 1682.59 کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور استفادہ کنندگان کی مجموعی تعداد 1لاکھ 26ہزار501 تھی ۔ ریاستی حکومت اور محکمہ فینانس سے اگر بجٹ اجلاس سے قبل ایس ایل بی سی کا اقلیتوں کی اسکیمات اور انہیں بینکوں کے ذریعہ فوائد کا جائزہ لینے اجلاس منعقد کیا جاتا ہے تو تلنگانہ کے اقلیتوں کو نہ صرف مرکزی اسکیمات بلکہ ریاستی حکومت کی اسکیمات میں بینکوں کی حصہ داری کی تفصیلات سامنے آئیں گی اور ان کی بنیاد پر اقلیتوں کی ترقی ‘ فلاح و بہبود کا منصوبہ تیار کیا جاسکتا ہے۔