تعلیمی اداروں میں کمزور طبقات کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک افسوسناک

   

روہت ویمولا قانون وضع کرنے چیف منسٹر تلنگانہ کو راہول گاندھی کا مکتوب
حیدرآباد 21 اپریل (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں روہت ویمولا قانون پر عمل آوری کی خواہش کی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کو ختم کیا جائے۔ راہول گاندھی نے کانگریس زیراقتدار ریاستوں کرناٹک، ہماچل پردیش اور تلنگانہ کے چیف منسٹرس کو علیحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے پسماندہ طبقات کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے روہت ویمولا قانون پر عمل آوری کی خواہش کی۔ راہول گاندھی نے مکتوب میں دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے شخصی تجربات کو پیش کیا جس میں اُنھوں نے اسکول میں امتیازی سلوک کا ذکر کیا۔ مکتوب میں راہول گاندھی نے کہاکہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا وہ ہر کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور ہندوستان میں کمزور طبقات کے کسی بھی طالب علم کو اِس طرح کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ دلت، آدی واسی اور او بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں طلبہ موجودہ تعلیمی نظام میں امتیازی سلوک کا سامنا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روہت ویمولا، پائل تڑوی اور درشن سولنکی جیسے طلبہ کی ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے۔ راہول گاندھی نے تلنگانہ حکومت پر زور دیا کہ وہ روہت ویمولا ایکٹ کی تدوین کرے تاکہ ہندوستان میں کوئی بھی طالب علم ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور روہت ویمولا کی طرح امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرے۔ راہول گاندھی نے گزشتہ دنوں چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا اور چیف منسٹر ہماچل پردیش سکھویندر سکو کو اِسی ضمن میں مکتوب روانہ کیا ہے۔1