متعدد بسس تعلیمی ادارہ جات کو واپس ، سڑکوں سے سینکڑوں بسیں غائب
حیدرآباد۔21 اکٹوبر(سیا ست نیوز) ریاست میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کے ساتھ ہی بسوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگئی ہے کیونکہ 700 سے زائد بسیں تعلیمی اداروں کو واپس کی جاچکی ہیں ، اب جبکہ تعلیمی اداروں کی کشادگی عمل میں لائی جا چکی ہیں تو ان تعلیمی اداروں کو اپنی بسوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہیں۔اسی طرح بعض اسکول بسوں کے ڈرائیور آر ٹی سی کی بسیں چلا رہے تھے لیکن اسکولوں کی کشادگی کے فیصلہ کے بعد وہ اپنی مستقل خدمات سے واپس ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد کے متعلق عہدیداروں کا کہناہے کہ وہ 300 کے قریب ہیں۔حکومت کی جانب سے ہڑتال کو ختم کروانے کیلئے اقدامات کے بجائے عارضی ڈرائیورس کے ذریعہ بسوں کو چلاتی رہی ہیں لیکن اب اسکولوں اور کالجس کی کشادگی کے بعد مجموعی اعتبار سے 1000 بسیں سڑکوں سے غائب ہوچکی ہیں کیونکہ ریاست بھر میں 700تعلیمی ادارو ںکی بسیں اور 300 ڈرائیورس اپنے مستقل اداروں کو واپس ہو چکے ہیں۔آر ٹی سی ہڑتالی ملازمین کا کہناہے کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے اب تک بسیں چلانے کا جو دعوی کیا جاتا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب اسکولوں اور کالجس کی کشادگی کے بعد ریاست کی سڑکوں سے نصف بسیں غائب ہوچکی ہیں۔شہر کے کئی بس اسٹاپس پر اسکولی اور کالج طلبہ کے ہجوم دیکھے گئے جو بسوں کے انتظار میں تھے لیکن انہیں اپنی منزل تک پہونچنے کے لیے بسوں کا کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں 300 سے زائد تعلیمی اداروں کی بسیں خدمات انجام دے رہی تھیں لیکن اب اسکولوں کی کشادگی کے ساتھ یہ بسیں تعلیمی اداروں پر اپنی مخصوص روٹ پر چلائی جائیں گی اور آر ٹی سی مسافرین کو ان بسوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جس کے سبب اندرون شہر سفر کرنے والے مسافرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اسکولوں اور کالجس میں آج تعلیمی اداروں کی کشادگی کے پہلے دن طلبہ کی تعداد توقع سے زائد رہی کیونکہ اسکول و کالج انتظامیہ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ آر ٹی سی ہڑتال کے سبب طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن آج پہلے دن ایسی کوئی مشکل تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں نہیں ہوئی لیکن تعلیمی اداروں کو چھوڑے جانے کے بعد شہر کے بیشتر تمام بس اسٹاپس پر طلبہ کے ہجوم دیکھے گئے جو کہ اپنی منزل کو پہونچنے کیلئے بس کے انتظار میں تھے اور انہیں بس کے انتظار میں تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔