سمینار برائے بیسویں صدی کی مسلم خواتین ’’پاتھ بریکرس‘‘ سے ڈاکٹر سعید حمید، جناب اے کے خان کا خطاب
حیدرآباد۔4اگست(سیاست نیوز) جنگ آزادی میں خواتین کے کلیدی رول کو کبھی فراموش نہیںکیاجاسکتا ہے۔ نہ صرف آزادی بلکہ تقسیم ہند کے ہولناک حالات جس میںدونوں جانب تباہی اور بربادی تھی ‘ مگر راکھ کے ڈھیر سے اٹھ کر ملک کی ترقی اور تعمیر کے لئے مسلم خواتین نے جو رول ادا کیاہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ پرانے قلعہ کے پاس تعمیر کئے گئے راحت کاری کیمپوں میںرہ کر بھی مسلم خواتین نے ملک کی تعمیر اور خواتین کے حقوق کو اپنا نصب العین بنایا۔ ترنگا کی حقیقی صورت گری کسی اور نے نہیںبلکہ مسلم خاتون سرایا طیب جی نے کی اور ان خواتین کو ’’پاتھ بریکرس‘‘ قراردینا واجبی ہے ۔ نوجوان نسل کو مذکورہ خواتین سے واقف کروانا اور ان کے کارناموں کو آنے والے نسلوں تک پہنچانے کے لئے بڑے پیمانے پر مہم کی ضرورت ہے۔ سالار جنگ میوزیم میں رضاکارانہ تنظیم کوا ‘ مسلم ویمنس فورم اور تلنگانہ اقلیتی اقامتی ادارہ جاتی سوسائٹی ( ٹی ایم آر ای آئی ایس ) کے اشتراک سے منعقدہ ایک پانچ روزہ نمائش اور ایک روزہ سمینار برائے ’’ بیسویں صدی کی مسلم خواتین ‘ پاتھ بریکرس‘‘ سے خطاب کے دوران سابق رکن پلاننگ کمیشن حکومت ہند اور مسلم ویمنس فورم کی صدرڈاکٹر سعید حمید نے ان خیالات کا اظہار کیا۔مشیر حکومت تلنگانہ برائے اقلیتی امور جناب اے کے خان کے علاوہ ڈاکٹر صفیہ مہدی‘ دہلی‘ پروفیسر عصمت مہدی‘ ڈاکٹر اودیش رانی‘ ڈاکٹر آمینہ تحسین اور پروفیسر سلمی فاروقی ( مانو) نے بھی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے بیسویںصدی میں اپنی بے مثال خدمات کے ذریعہ ملک او رملت کی ترقی کے لئے کام کرنے والی خواتین کی زندگیوں پر روشنی ڈالی۔ ایم ڈی کوا جناب مظہر حسین نے ابتدائی کلمات ادا کئے جبکہ نظامت کے فرائض ممتا ز دانشوار آنند راج ورما نے انجام دئے۔اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر سعیدہ حمید نے کہاکہ جرمن ڈراموں کا اُردو میںترجمہ ‘ ہندوستان میںپہلی تھیٹر ڈراموں کی شروعات سے لے کر تعلیمی او ر سماجی انقلاب میں اہم رول مسلم خواتین کا رہا ہے۔ جناب اے کے خان سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’پاتھ بریکرس ‘‘ کی تلاش اور تحقیق کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جناب اے کے خان نے کہاکہ مذکورہ سمینار او رنمائش میںبیسویں صدی کی محض بیس خواتین کو شامل کیاگیا ہے مگر ایسی بے شمار مسلم خواتین بھی ہیں جو گوشہ گمنامی میںرہتے ہوئے ملک وملت کی سرخروائی کے لئے کام کیاہے۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میںبھی ریاستی حکومت لڑکیو ں کی تعلیم کے لئے سنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوںمیں ٹی ایم آر ای ائی ایس کے اقامتی اسکولوں میںزیر تعلیم طالبات مستقبل کی ’’ پاتھ بریکرس ‘‘ بنیں گی۔درایں اثناء حیدرآباد کی پہلی خاتون پائلٹ سلوی فاطمہ اور باکسنگ چیمئن سیدہ فلک کو تہنیت اور اعزاز سے نوازا گیا۔ سلوی فاطمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمت اور حوصلہ انسان کو ضرور کامیاب کرتا ہے۔ سلوی فاطمہ اس وقت جذباتی ہوگئیں جب انہوںنے اپنے پائلٹ بننے میں مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان کے گرانقدر تعاون کا ذکر کیا۔ سلوی فاطمہ نے کہاکہ جس امید سے میں ادارہ سیاست اور جناب زاہد علی خان سے رجوع ہوئی ‘ اس امید کوانہوں نے پورا کیااور میرے پائلٹ بننے کے خواب کو عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے پائلٹ بننے کے لئے قطعی ٹریننگ میں حکومت تلنگانہ کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔ پدما شری پروفیسر شانتا سنہا اور ڈاکٹرآمینہ تحسین کے ہاتھوں سلوی فاطمہ اور سیدفلک دونوں کو ایوارڈ بھی پیش کیاگیا۔
