تعلیمی ترقی ہر کسی کیلئے ممکن۔ دودھ فروش کی بیٹی سونل جج بننے تیار

,

   

اودے پور : تعلیم کے شعبہ میں آگے تک جانا ہو تو کوئی بھی خاندانی پس منظر رکاوٹ نہیں بنتا۔ اِس کی مثال ایک اور مرتبہ سامنے آئی ہے۔ اودے پور میں دودھ فروش شخص کی بیٹی سونل شرما نے بی اے، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کے امتحانات میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 3 گولڈ میڈلس حاصل کئے ہیں۔ 26 سالہ سونل نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے اپنے خاندان کے کاروبار میں بھی ہاتھ بٹایا ہے۔ سونل کی صبح 4 بجے ہوتی ہے، وہ مویشیوں کو چارہ دینے میں اپنے والد کی مدد کرتی ہے، گایوں کا سائبان صاف کرتی ہے، گوبر اُٹھاتی ہے حتیٰ کہ کبھی کبھی دودھ بھی فروخت کرتی ہے۔ سونل کو عنقریب ریاست راجستھان کی سیشنس کورٹ میں فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی حیثیت سے مقرر کیا جانے والا ہے۔ اُس نے ایک سالہ ٹریننگ مکمل کرلی ہے۔ وہ خیالی لال شرما کے 4 بچوں میں دوسری اولاد ہے۔ وہ راجستھان جوڈیشیل سرویس امتحان 2018 ء میں اپنی پہلی کوشش میں ہی جج بننے کی اہل قرار پائی۔ سونل کے گرو ستیندر سنگھ نے کہاکہ اُنھیں سونل کے سلیکشن کا اعتماد تھا۔ قابل رشک بات ہے کہ سونل نے اپنے تعلیمی کیرئیر میں کبھی کوچنگ سنٹر کا رُخ نہیں کیا اور نہ ٹیوشن لئے۔ سونل کو اپنے والدین کی محنت اور تعلیم حاصل کرنے میں اُن کی طرف سے حوصلہ افزائی پر فخر حاصل ہے۔ سونل کی اسٹڈی کا منظر بھی دلچسپ ہوا کرتا ہے، وہ ڈیری فارم میں گایوں کے قریب بیٹھ کر پڑھائی کرتی رہی ہے۔