اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی سے نمائندگی
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ جاریہ تعلیمی سال کی فیس کے سلسلہ میں وضاحت کرے اور فیس میں کمی کرنے کا اعلان کرے۔ملک کی کئی ریاستوں آندھراپردیش‘ مغربی بنگال اور اوڈیشہ کے علاوہ کرناٹک وغیرہ میں ریاستی حکومتوں کی جانب سے فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی سال 2020-21 میں کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خانگی اسکولوں کی فیس میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ جاریہ تعلیمی سال کے دوران فیس میں اضافہ نہ کرنے کے لئے احکامات کی اجرائی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے ریاستی وزیر تعلیم مسز سبیتا اندرا ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں خانگی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی من مانی فیس اور اضافی فیس کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلہ میں اقدامات کرتے ہوئے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے علاوہ دیگر وجوہات کے سبب معاشی پریشانیوں میں مبتلاء اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو راحت پہنچانے کے اقدامات کریں۔ ریاستی وزیر سے ملاقات کے دوران اولیائے طلبہ کی تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ خانگی کارپوریٹ اداروں کی جانب سے حکومت کے منع کرنے کے باوجود بھی فیس سہ ماہی اور ششماہی و سالانہ پیاکیج کے طور پر وصول کی جا رہی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے خانگی اسکولوں کو بغیر کسی اضافہ کے ماہانہ فیس وصول کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس کے باوجود اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے۔مسز سبیتا اندرا ریڈی نے اولیائے طلبہ کی جانب سے کئے جانے والے مطالبہ اور ان کی تجاویز پر غور کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤکو اس صورتحال سے واقف کروانے کا تیقن دیا اور کہا کہ جن اسکولوں نے فیس میں اضافہ کیا ہے ان کے خلاف شکایات موصول ہونے پر ان کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا جائے گا اور حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔