کارپوریٹ اسکولس کا داخلہ میلہ ، رعایت کے نام پر من مانی لوٹ کھسوٹ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد کے بشمول ریاست کے بڑے شہروں میں کارپوریٹ اسکولس نے آئندہ تعلیمی سال 2026-27 کے لیے داخلہ میلہ وقت سے پہلے شروع کردیا ۔ سالانہ امتحانات ختم ہونے سے قبل ہی داخلوں کی دوڑ لگ چکی ہے ۔ مختلف آفرس اور رعایتوں کے ذریعہ والدین کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں ۔ عام طور پر داخلوں کا عمل گرمیوں کی چٹھیوں میں شروع ہوتا ہے ۔ لیکن اس بار جنوری سے ہی کارپوریٹ اسکولس سرگرم ہوگئے ہیں ۔ پہلے ’ نیو ایر ڈرائیو ‘ اب ’ وسنت پنچمی اسپیشل ڈرائیو ‘ کے نام پر داخلوں کی تشہیر کی جارہی ہے ۔ وسنت پنچمی جیسے تہوار کو بھی مارکیٹنگ ٹول کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس پر ماہرین تعلیم تنقید کررہے ہیں ۔ اسکول انتظامیہ ’ نو ڈونیشن فری ایڈمیشن ‘ اور بمپر آفرز جیسے نعروں کے ساتھ والدین کو لبھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بعض تعلیمی ادارے فوری داخلہ لینے پر ٹیوشن فیس میں 20 فیصد تک رعایت کا اعلان کررہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق تعلیم کو شاپنگ مال کی فروخت میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ جہاں خوف اور لالچ کے ذریعہ فیصلے کروائے جارہے ہیں ۔ متعدد والدین ’ ایڈوانس ایڈمیشن ‘ کے جال میں پھنس رہے ہیں اور رعایت کی امید میں ہزاروں روپئے پیشگی ادا کررہے ہیں ۔ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ تعلیمی سال شروع ہونے کے بعد اسکولس اصلی چہرہ دکھاتے ہیں اور فیس کے علاوہ کتابوں ، یونیفارم اور دیگر مدات میں اضافی رقم وصول کی جاتی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے واضح احکامات کے باوجود داخلوں کی تشہیر جاری ہے ۔ قواعد کے مطابق سالانہ امتحانات کے نتائج آنے کے بعد ہی داخلے شروع ہونے چاہئے لیکن جنوری میں ہی داخلے لینا غیر قانونی ہے ۔ ضابطوں میں کیپٹیشن فیس کی ممانعت ہے ۔ رجسٹریشن نمبر کی نمائش اور والدین کو کتابیں ، یونیفارم خریدنے کے لیے مجبور نہ کرنے کی ہدایت شامل ہے ۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس پائی جارہی ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات ، میٹرو ٹرینوں ، ہورڈنگس ، سوشیل میڈیا اور ٹی وی چیانلس پر داخلوں کے اشتہارات کا سیلاب دیکھا جارہا ہے ۔اس دوران محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے کردار پر بھی سوال اُٹھ رہے ہیں ۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل کے خوف کو کاروبار بنادیا گیا ۔ تعلیم ایک خدمت کے بجائے منافع بخش صنعت بنتی جارہی ہے ۔۔ 2