نئی دہلی :سپریم کورٹ نے تعلیم میں ذات پات پر مبنی ریزرویشن سسٹم کو ختم کرنے کی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا۔ جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے ڈاکٹر سبھاش وجیئرن کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ اس درخواست کی سماعت کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کے بعد درخواست گزار نے عدالت سے درخواست واپس لینے کے لئے اجازت طلب کی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔درخواست گزار کا مطالبہ تھا کہ ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن کو ختم کرنے کے لئے وقت کی حد مقرر کرنے کی ہدایت دی جائے۔سماج میں ریزرویشن کو لیکر بحث جاری ہے اور اس میں دونوں فریق کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ ریزرویشن کو جاری رکھنے کے حق میں دلیل دینے والوں کا کہنا ہے کہ سماج میں ایک طبقہ کے پاس بنیادی سہولیات نہیں ہیں اس لئے اس طبقہ کو ریزرویشن کی سخت ضرورت ہے جبکہ ریزورویشن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سماج کے دوسرے طبقوں کیساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اس لئے ریزورویشن کی بنیاد اقتصادی صورتحال ہونی چاہئے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ریزرویشن کے تحت ہونہار امیدوار کی نشست نسبتا کم ہونہار امیدوار کو دی جاتی ہے جس سے قوم کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔