تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے نام پر دھوکہ دہی کا شکار

   

Ferty9 Clinic

بیرون ممالک ملازمتوں کا جھانسہ، بین الاقوامی سطح پر دھوکہ باز ایجنٹس سرگرم

حیدرآباد۔21جولائی (سیاست نیوز) ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانو ںمیں تیزی سے بڑھ رہی بے روزگاری کے سبب وہ بین الاقوامی دھوکہ بازوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک بھر کی کئی ریاستوں سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ نوجوانوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھانسے دیتے ہوئے انہیں لوٹا جا رہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں کے علاوہ شمالی ہند کی ریاستوں میںواٹس اپ میسیج کے ذریعہ بیرون ملک ملازمت بالخصوص دبئی اور شارجہ میں شاپنگ مالس اور سوپر مارکٹس میں اندرون 25یوم ملازمت کے جھانسہ دیتے ہوئے نوجوانوں سے بیرون ملک موجود کھاتوں میں 25تا50ہزار روپئے وصول کئے جانے لگے ہیں اور ملازمت کے لئے درکار اہلیت نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے مسترد کیا جا رہاہے جس پر 25تا50 ہزار روپئے گنوانے والے ملازمین ان کے اس بیان کو حقیقت تصور کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ معمولی رقم برائے رجسٹریشن کے نام پر بھی ہزاروں افراد کو اس طرح کی دھوکہ دہی کا شکار بنایا جا رہاہے اور دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے معمولی رقم ہونے کے سبب پولیس سے رجوع ہونے سے اجتناب کر رہے ہیں لیکن ہزاروں افراد کی یہ معمولی رقومات دھوکہ بازوں کیلئے کروڑہا روپئے کی آمدنی کا سبب بن رہی ہیں۔ سابق میں خانگی ٹراویل ایجنٹس اور ایجنسیوں کی جانب سے اس طرح کی دھوکہ دہی کے واقعات پیش آیا کرتے تھے لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں ایجنٹس بین الاقوامی سطح کے ریاکٹس سرگرم ہیں اور وہ ہندستان میں بے روزگاروں کی بڑھتی شرح کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کیرالہ کے علاوہ ریاست تلنگانہ اور کرناٹک میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں اور ایس ایم ایس و واٹس اپ پر بیرون ملک ملازمت کے جھانسہ کے ذریعہ نوجوانوں کو راغب کیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیو ںمیں ملوث افراد کی ٹولیاں ملک بھر میں سرگرم ہیں اور وہ ان میسیج کو وائرل کرتے ہوئے نوجوانوں کو ان بین الاقوامی کمپنیوں تک رسائی فراہم کر رہی ہیں جہاں انہیں دھوکہ دہی کا شکار بنایاجارہاہے ۔ اس طرح کی دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے نوجوانوں کو باشعور بنانے اور انہیں اس کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں حقائق سے واقف کروایاجائے ۔ حکومت کی جانب سے قائم ادارو ںکی جانب سے نوجوانوں کو بیرون ملک چھوٹی ملازمتوں کے سلسلہ میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے لیکن نوجوان ان اداروں کے بجائے اس طرح کے دھوکہ بازوں کی دھوکہ دہی کا شکار ہوجاتے ہیںاور وہ اس سلسلہ میں شکایت بھی کرنے کے متحمل نہیں ہوتے کیونکہ معمولی رقومات کی شکایات کے سبب ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔