تعمیراتی قوانین پر اردو میں بھی مواد تیار کرنے کی ہدایت

   

شہری منصوبہ بندی پر ٹاون پلاننگ کا اجلاس ، کے ٹی آر وزیر بلدی نظم و نسق کا خطاب
حیدرآباد۔20ڈسمبر(سیاست نیوز) شہری منصوبہ بندی کے سلسلہ میں مواد اردو میں بھی تیار کیا جائے اور تلگو میں بھی یہ مواد موجود رکھا جائے تاکہ عام شہریوں کو تعمیرات اور اجازت ناموں کے سلسلہ میں معلومات حاصل ہوسکے۔ وزیر بلدی نظم و نسق تلنگانہ مسٹرکے ٹی راما راؤ نے آج محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں اور شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے عہدیداروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مکمل تفصیلات سے آگہی حاصل کی۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے عہدیداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے ہدایات اور رہنمایانہ خطوط انگریزی میں جاری کئے جاتے ہیں اس بات کی انہیں اطلاع ہے لیکن اب جو کوئی آن لائن یا تشہیری و شعور بیداری مواد جاری کیا جائے گا اسے تلگو اور اردو زبانوں میں بھی شائع کیا جائے تاکہ عام شہریوں کو بھی اس بات کا علم ہوا کہ انہیں تعمیراتی قوانین کیا کہتے ہیں اور جی ایچ ایم سی اور جی ایچ ایم سی کے حدود کے باہر کیا قوانین ہیں جن کے تحت وہ کس طرح کی تعمیرات اور کتنی جگہ پر تعمیرات کرنے کے متحمل ہیں۔ مسٹر کے ٹی راما راؤنے کہا کہ شہریوں کو تلگو اور اردود میں مواد فراہم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حقوق اور انہیں حاصل اجازت و رعایت کے متعلق باخبر رہیں گے اور انہیں اس بات کا اندازہ رہے گا کہ انہیں اجازت کے حصول کے لئے کیا کرنا ہے۔ اجلاس میں موجود مسٹر اروند کمار پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق نے وزیر کی ہدایت پر فوری عمل آوری کو یقینی بنانے کا تیقن دیا۔ ریاستی وزیر کی ہدایت کے بعد اب جی ایچ ایم سی اور دیگر متعلقہ ویب سائٹس پر آن لائن شعبہ ٹاؤن پلاننگ کا مود اردو میں بھی دستیاب رہے گا کیونکہ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کردہ قوانین ہر شہری تک پہنچنے چاہئے ۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے آن لائن ‘ پمفلٹ‘کتابچہ اور دیگر شعور بیداری مواد میں بھی ریاست کی پہلی اور دوسری سرکاری زبان کا استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی میں رہنمایانہ خطوط کے سبب بیشتر لوگوں کو راست ان باتوں کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے اسی لئے ان دو زبانوں میں بھی یہ مواد عوام تک پہنچایا جائے۔ انہو ںنے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے ذمہ داروں کو ہدایت دی کہ وہ شہری علاقوں میں کی جانے والی ناجائز تعمیرات پر کسی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر کاروائی کریں کیونکہ ریاستی حکومت نے منظم انداز میں شہری ترقیات کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے شہریوں کو مراعات فراہم کرنے کے علاوہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔