با اثر شخصیتوں کے بلڈرس کو مراعات ، بلدیہ کی پشت پناہی سے قانون کی دھجیاں
حیدرآباد۔23 اکٹوبر(سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر میں کی جانے والی تعمیرات میں اگر منصوبہ سے معمولی انحراف بھی کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے ان تعمیرات کو منہدم کرنے کے علاوہ ان کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے دوسری جانب سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے بلڈرس کو کئی مراعات فراہم کرتے ہوئے تعمیراتی اجازت نامہ فراہم کیا جا رہاہے اور ان کے دستاویزات کے متعلق موجود اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی مدد کی جارہی ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں موجود قوانین سے انحراف کی خود جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے راہیں ہموار کرتے ہوئے مدد فراہم کی جا رہی ہے اور اس عمل سے اعلی عہدیدار بھی واقف ہیں لیکن کوئی کاروائی نہیں کی جاتی کیونکہ بڑے پیمانے پر کئے جانے والی ان تعمیرات کو سیاستدانو ںکی مکمل تائید حاصل ہوتی ہے۔قلب شہر میں کی جانے والی تعمیرات کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہناہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تمام غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا
لیکن جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے تعمیرات کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ ان لوگوں کی تعمیرات کے متعلق کاروائی کی جا رہی ہے جو اپنے مکان تعمیرکرتے ہوئے رہائشی مقصد کے لئے تعمیرات انجام دے رہے ہیں لیکن تجارتی مقاصد کیلئے تعمیر کی جانے والی اراضیات کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ یہ واضح طور پر کہا جار ہاہے کہ ان تعمیرات کو جن لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے وہ ان سے الجھ نہیں سکتے بلکہ اگر کو ئی ان تعمیرات پر اعتراض کرتا بھی ہے تو جی ایچ ایم سی کی جانب سے یہ کہتے ہوئے اسے نظر انداز کیا جانے لگا ہے کہ جی ایچ ایم سی نے نوٹس جاری کردی ہے اور نوٹس کے جواب موصول ہونے کے بعد کاروائی کی جائے گی ۔سیاسی سرپرستی میں شہر کے مرکزی علاقوں میں ہزاروں کروڑ کے پراجکٹس پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے اور جی ایچ ایم سی مالیاتی بحران کا شکار ہونے کا دعوی کر رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی میں مالیہ کی قلت کے سبب شہر میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی نہیں ہوپا رہی ہے۔