تعمیری اجازت ناموں کے سلسلہ میں سرکاری اراضیات کی شمولیت

   


جی ایچ ایم سی حکام حیرت میں، 201 درخواستوں کو مستردکردیا گیا
حیدرآباد: حیدرآباد میں تعمیری اجازت ناموں کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ٹی ایس بی پاس سسٹم کو بعض بلڈرس کی جانب سے بے جا استعمال کرنے کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ تعمیری اجازت نامہ اور سیلف سرٹیفکیشن سسٹم کے لئے نیا طریقہ کار گزشتہ ماہ فروری میں متعارف کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ بلڈرس نے فوری اجازت نامے حاصل کرنے کیلئے جو درخواستیں داخل کی ہیں ، ان میں کئی درخواستیں سرکاری اراضیات سے متعلق ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو فوری اجازت کیلئے 720 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 201 درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 201 اجازت نامے سرکاری اراضیات پر تعمیر سے متعلق تھے جبکہ 83 خانگی اراضیات کے معاملات منظر عام پر آئے ۔ بلڈرس کی جانب سے موجودہ سسٹم کے غلط استعمال کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے کارپوریشن نے طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹی ایس بی پاس کے تحت سنگل ونڈو اصلاحات متعارف کی گئیں تاکہ بلڈرس اور عوام کو رکاوٹ کے بغیر تعمیری اجازت حاصل ہو۔ سابق میں 75 مربع گز اراضی کے لئے سیلف سرٹیفکیشن کے تحت آن لائین رجسٹرڈ کرتے ہوئے اجازت حاصل کی جاسکتی ہے ۔ گراؤنڈ یا فرسٹ فلور کیلئے سیلف سرٹیفکیشن کو تعمیری اجازت کی بنیاد بنایا گیا تھا۔ 21 فروری سے نئے طریقہ کار کے تحت 75 مربع گز سے 500 مربع گز تک اور 10 میٹر بلندی والی عمارت کیلئے اسی طریقہ کار کو توسیع دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کو ٹی ایس بی پاس کے تحت فوری رجسٹریشن کیلئے 431 ، فوری منظوری کیلئے 280 اور سنگل ونڈو درخواستوں کے تحت 9 معاملات رجوع کئے گئے، ان میں سے 201 فوری رجسٹریشن کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ۔ بعض دستاویزات میں الٹ پھیر کے ذریعہ سرکاری اراضیات کے رجسٹریشن کی درخواست دی گئی ۔ عہدیداروں میں تمام ریونیو ریکارڈ کو محفوظ کردیا ہے تاکہ کوئی الٹ پھیر نہ کی جاسکے۔ عہدیداروں نے انتباہ دیا کہ اگر آن لائین درخواستوں کے ادخال میں کوئی بھی شخص سرکاری اراضیات سے چھیڑ چھاڑ کرے گا تو اس کے خلاف کریمنل ایکشن لیا جائے گا ۔