آرٹ گیلری ‘ کیفے اور ہیرٹیج ہوٹل بھی قائم کی جائے گی ۔ چارمینار کے دامن میں سیاحتی سرگرمیوںمیں اضافہ ہوگا
حیدرآباد۔30اپریل(سیاست نیوز) چارمینار و مکہ مسجد کی سیر و تفریح کیلئے پہنچنے والے سیاحوں کی دلچسپی کیلئے چارمینار کے دامن میں ایک اور تاریخی عمارت میں سیاحتی مرکز کے آغاز میں اب چند ماہ رہ گئے ہیں ۔ جاریہ سال کے اواخر سے قبل اس کا افتتاح عمل میں لایا جائے گا۔سردار محل کو آرٹ گیلری اور ہیریٹیج ہوٹل میں تبدیل کرنے کے کام تیزی سے جاری ہیں اور قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے محکمہ بلدی نظم و نسق کی نگرانی میں جاری کاموں کو آئندہ 3ماہ کے دوران مکمل کرلئے جانے کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے سردار محل کو ترقی دینے کے اعلان کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ سردار محل میں نہ صرف آرٹ گیلری قائم کی جائے بلکہ اسے کیفے اور ہیریٹیج ہوٹل کے طور پر ترقی دی جائے گی ۔ پرنسپل سیکریٹری مسٹر اروند کمار نے حکومت کے فیصلہ کے بعد اپنی نگرانی میں کامو ںکا آغاز کیا تھا جو کہ 60 فیصد تک مکمل کئے جاچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ہیریٹیج ہوٹل اور آرٹ گیلری کے لئے تمام تعمیری و مرمتی کاموں کو اندرون تین ماہ مکمل کرلیا جائیگا اور سردار محل کی بیرونی عمارت کو خوبصورت بنانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نے تاریخی چارمینار ‘ مکہ مسجد ‘ چومحلہ پیالس ‘ نظامیہ طبی کالج شفا خانہ یونانی چارمینار‘ بادشاہی عاشورخانہ کے علاوہ لاڈ بازار اور پتھر گٹی کو سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دے کر سیاحوں کی دلچسپی کیلئے سردار محل میں کلاکریتی آرٹ گیلیری کے قیام کا منصوبہ تیار کیا ہے اور سردار محل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں میں تیزی کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ ان امور کو جلد مکمل کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت نے سردار محل کو راجستھان کے نیم رانا فورٹ پیالس کے طرز پر ترقی دے کر اسے ہیریٹیج ہوٹل اور سرکردہ آرٹ گیلری اور سیاحوں کیلئے کیفے کے منصوبہ پر عمل آوری کی جار ہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق گیلیری کو تاریخی میوزیم کے طور پر ترقی دینے اقدامات کئے جائیں گے اور گیلری میں تلنگانہ تہذیب پر مشتمل فنکاری کے نمونوں کو مشاہدہ کیلئے رکھا جائے گا۔ چارمینار سے کوٹلہ عالی جاہ سڑک پر موجود سردار محل کی ترقی کے چارمینار کی ہر سمت تاریخی سیاحتی عمارتیں ہوجائیں گی جو سیاحوں کی دلچسپی کے مرکز کے طور پر دیکھی جائیں گی اور ان عمارتوں کا مشاہدہ کرنے والوں کی تعدادمیں بھی اضافہ کا امکان ہے۔م