تلنگانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ، انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی کی درخواست
حیدرآباد۔15 ۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں قومی بی سی کمیشن کے اختیارات سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی میں تقررات روکنے کے لئے قومی بی سی کمیشن نے جو احکامات جاری کئے ، اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ۔ کارگزار چیف جسٹس ایم ایس رام چندر راؤ اور جسٹس ٹی ونود کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے یونیورسٹی اور کمیشن کے وکلاء کے دلائل کی سماعت کی ہے۔ یونیورسٹی نے دو اور پانچ فروری کو کمیشن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے خلاف اپیل کی ہے جس میں کمیشن نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کو روکنے کی ہدایت دی تھی ۔ یونیورسٹی نے قومی بی سی کمیشن کے فیصلہ کو دستور کی دفعہ 338 کے برخلاف قرار دیا۔ یونیورسٹی کے وکیل پی ایس راج شیکھر نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کو یونیورسٹی کے معاملات میں حکم التواء کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ بی سی کمیشن کے وکیل نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں بی سی کمیشن کے اختیارات کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ قومی بی سی کمیشن نے کانگریس پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر شراون کی شکایت پر یہ کارروائی کی تھی۔ کانگریس ترجمان نے شکایت کی کہ یونیورسٹی میں یو جی سی گائیڈ لائینس کے بر خلاف 39 اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کئے جارہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے یونیورسٹی کو سلیکشن کا عمل مکمل کرنے کی اجازت دی ۔ تاہم کہا کہ نتیجہ کا اعلان عدالت کے فیصلہ کا تابع رہے گا۔R