حیدرآباد ۔7۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ریونت ریڈی حکومت کی حلف برداری تقریب کے ذریعہ کانگریس پارٹی نے 10 سال بعد تلنگانہ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ لال بہادر اسٹیڈیم میں ریاست کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں کانگریس کارکنوں اور ریونت ریڈی کے حامیوں نے تقریب میں شرکت کی۔ اسٹیڈیم کھچاکھچ بھرچکا تھا اور اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں بھی لوگ جمع دیکھے گئے۔ صبح 11 بجے سے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ کانگریس کے سینئر قائدین اور وزراء 12 بجے دن سے اسٹیڈیم پہنچنے لگے۔ اہم شخصیتوں کیلئے علحدہ گوشہ قائم کیا گیا تھا۔
ll حلف برداری تقریب میں سونیا گاندھی کا روایتی انداز میں استقبال کیا گیا اور انہیں سجائی ہوئی پولیس کی جیپ میں اسٹیج تک پہنچایا گیا اور ان کی آمد کے ساتھ ہی سارا اسٹیڈیم نعروں سے گونج اٹھا۔ راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھرگے نے آمد کے بعد عوام کے استقبال کا ہاتھ ہلاکر جواب دیا۔
ll حلف برداری کیلئے 1.04 بجے کا مہورت طئے کیا گیا تھا لیکن وقت گزرنے کے بعد حلف برداری ہوئی ۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی آمد پر ریونت ریڈی نے استقبال کیا اور اسٹیج تک ساتھ پہنچے۔ تقریب کا آغاز اور اختتام قومی ترانہ کی دھن سے ہوا۔
ll ریونت ریڈی نے سب سے پہلے تلگو زبان میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ ان کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی اسٹیڈم نعروں سے گونج اٹھا اور آتشبازی کی گئی ۔ ہزاروں حامیوں نے ’’سی ایم سی ایم ‘‘ کے فلگ شگاف نعرے لگائے۔ بھٹی وکرمارکا ، اتم کمارریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، سریدھر بابو ، پونم پربھاکر ، کونڈا سریکھا، ٹی ناگیشور راؤ اور جوپلی کرشنا راؤ نے تلگو میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ دامودر راج نرسمہا نے انگریزی میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ سرینواس ریڈی نے تلگو میں جبکہ سیتکا نے تلگو میں ضمیر کی آواز پر حلف اٹھایا۔ سیتکا کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی اسٹیڈیم میں نعرے گونجنے لگے جس سے متاثر ہوکر سونیا گاندھی نے سیتکا کو گلے لگالیا۔
ll تقریب حلف برداری کے اختتام کے ساتھ ہی گورنر کے ساتھ نئے وزراء کی تصویر کشی ہوئی اور پھر ریونت ریڈی نے اپنی اہلیہ ، دختر ، داماد اور نواسی کا سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے تعارف کرایا۔ ریونت ریڈی فیملی نے گاندھی فیملی کے ساتھ تصویر کھچوائی ۔
ll حلف برداری کے موقع پر سی پی آئی ، سی پی ایم اور تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین شریک تھے۔
ll شہیدان تلنگانہ کے 250 خاندانوں کیلئے علحدہ انتظامات کئے گئے تھے۔
ll بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کے کسی نمائندہ نے حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کی جبکہ تمام سیاسی پارٹیوں کو دعوت نامہ بھیجاگیا تھا۔ چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی اور تلگو دیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔
ll گورنر سوندرا راجن کی واپسی کے بعد ریونت ریڈی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا یقین دلایا گیا ۔
ll حلف برداری کے موقع پر ہزاروں افراد کی شرکت کے سبب پولیس کو کنٹرول کرنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ کئی اہم شخصیتوں کو اپنی کار تک پہنچنے کیلئے پیدل فاصلہ طئے کرنا پڑا۔
ll اے آئی سی سی جنرل سکریٹریز کے سی وینو گوپال اور مانک راؤ ٹھاکرے کانگریس قائدین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ کابینہ کی تشکیل میں دونوں کا اہم رول بتایا جاتا ہے ، لہذا اہم عہدوں کے خواہشمند افراد ان سے ملاقات کر رہے تھے۔