تقسیم کے بعد کشمیر اور لداخ کو مساوی فوائد کا حصول

,

   

عوام کیلئے تعلیم و روزگار میں بہتر مواقع : مرکزی وزیر جتیندر سنگھ
نئی دہلی ۔26 اکتوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہاکہ مرکز کے زیرانتظام دو نئے علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کو کسی جانب داری کے بغیر مساوی فوائد حاصل ہوں گے ۔ سماج کے کسی طبقہ یا علاقہ کو یکساں فائدہ ہوگا ۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے ریاست میں یہ شکایت رہی ہے کہ بعض علاقوں اور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ جموں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ وادی کی بڑی حصہ داری کشمیر کو جاتی ہے جبکہ لداخ کو نظرانداز کرنے کی شکایت ہے ۔ جموں و کشمیر اور لداخ 31 اکٹوبر 2019ء سے مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ انھوں نے کہاکہ 31 اکٹوبر کے بعد مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی صورت میں انہیں مساوی فوائد حاصل ہوں گے ۔ سماج کے مختلف طبقات اور علاقہ کی تفریق نہیں ہوگی ۔ ریاست کی رسمی تقسیم کے پیش نظر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر کو دیئے گئے خصوصی موقف کو 5 اگسٹ 2019 ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعہ ختم کردیا گیا اور 31اکٹوبر سے ریاست مرکز کے زیرانتظام دو علاقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔ وزیراعظم دفتر سے وابستہ مرکزی وزیر نے کہاکہ تقسیم کے بعد جموں و کشمیرراست طورپر مرکزی وزارت داخلہ کے تحت ہوگا اور حکومت کے وسائل کی نہ صرف مساوی تقسیم ہوگی بلکہ اس کیلئے جوابدہی بھی ہوگی ۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی بدبختی یہ رہی ہے کہ اس کی حکمرانی میں شفافیت کا فقدان تھا۔ لا اینڈ آرڈر کی برقراری میں غیرضروری مداخلت اور مفادات حاصلہ کے رول کو بتدریج کم کیا جائیگا ۔ انھوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم ، پروفیشنل کالجس ، صنعت اور گذربسر کے بہتر مواقع عوام کوحاصل ہوں گے ۔