تقسیم کے سات سال بعد آندھرا پردیش وعدوں کی تکمیل سے محروم

   

حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے کہا کہ ریاست کی تقسیم کو سات سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک آندھرا پردیش کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ تروپتی میں جنوبی ریاستوں کی علاقائی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کرناٹک کے چیف منسٹر بسوا راج بومائی، پوڈوچیری کے چیف منسٹر رنگاسوامی، وزیر داخلہ تلنگانہ محمد محمود علی، چیف سکریٹری تلنگانہ سومیش کمار، ٹاملناڈو کے وزیر تعلیم سانومڑی، انچارج گورنر ٹی سوندرا راجن، کیرالا کے وزیر مال راجن، انڈمان نکوبار کے لیفٹننٹ گورنر دیویندر کمار جوشی، لکشادیپ کے اڈمنسٹریٹر پرافل پٹیل نے اجلاس میں شرکت کی۔ جنوبی علاقائی کونسل کا یہ 29 واں اجلاس ہے جس میں ایجنڈہ میں 26 موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے خیرمقدمی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات کی خوشگوار یکسوئی کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بین ریاستی مسائل کے حل کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ جگن نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم سے ان کی ریاست کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ تقسیم کو سات سال مکمل ہوگئے لیکن جو تیقنات مرکز کی جانب سے دیئے گئے تھے ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ تنظیم جدید قانون میں کئے گئے وعدے جوں کے توں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان اثاثہ جات کی تقسیم ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں آندھرا پردیش کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مرکز کی جانب سے فنڈز کی اجرائی عمل میں نہیں آئی۔ انہوں نے آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کے مطالبہ کا اعادہ کیا اور کہا کہ مرکز نے خصوصی موقف کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ سے برقی کے بقایا جات کا حصول باقی ہے۔ برقی سے متعلق آندھرا پردیش کے اداروں کو بحران سے بچانے کیلئے فوری مدد کی جائے۔ ر